برآمدات میں مستقل اضافہ کے لئے سیکٹر اسپیسیفک کمپنیاں بنانا ناگزیر ہے،میاں زاہد حسین

برآمدات میں مستقل اضافہ کے لئے سیکٹر اسپیسیفک کمپنیاں بنانا ناگزیر ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 اکتوبر2018ء)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ابتر معاشی صورتحال، بدترین تجارتی اور جاری اکائونٹ خسارہ، زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائراور IMFکے امدادی پیکیج کے حصول کا فیصلہ ڈالر کی قدر میں 8فیصد اضافہ کا باعث بنا۔

IMFکے پیکیج کے پیش نظر روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں مزید 9فیصداضافہ کا امکان ہے، جس سے اشیاء خورد ونوش سمیت ہر چیزمہنگی ہوگی۔عوام اور صنعتکار مہنگائی سے پریشان ہیں، کاروباری طبقہ اور سرمایہ کار تذبذب کا شکار ہیں۔IMFکے پاس جانے کے حکومتی فیصلہ سے اسٹاک ایکسچینج شدید متاثر ہوا۔

(جاری ہے)

8اکتوبر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو زبردست مندی کا سامنا کرنا پڑا اور PSX-100انڈیکس میں 1328پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی، جس سے سرمایہ کاروں کا لاکھوں روپیہ ڈوب گیا۔

میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میںکہا کہ پاکستان کے معاشی حالات حکومت کے حالیہ اقدامات کے نتیجے میں مزید مشکل کا شکار ہوتے نظر آرہے ہیں۔ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے کاروباری لاگت میں شدید اضافہ ہوا ہے، جس سے صنعتی پیداوار متاثر ہوگی اور ملک میں کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار ہوجائینگی۔ برآمدا ت میں وقتی اضافہ دیکھنے میں آئیگا لیکن طویل مدتی بنیاد پر اسکا اثر ختم ہوجائیگا۔

بیرونی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لئے ملکی کرنسی اور سیاست میں استحکام کا ہونا بہت ضروری ہے۔ روپے کی غیر مستحکم قدر سے سرمایہ کاروں کو پریشانی اور اذیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کااعتماد بحال کرنے اور معیشت کو مثبت رخ پر گامزن کرنے کے لئے طویل المدتی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ برآمدات میں مستحکم بنیادوں پر اضافہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ عالمی شہرت یافتہ ماہرین کی سرپرستی میں خودمختار سیکٹر اسپیسیفک کمپنیاں قائم کی جائیں ۔

ہر کمپنی متعلقہ شعبہ میں اضافہ اور استحکام کے لئے اصلاحات سمیت اپنے شعبہ میں موجود بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی پیداوار کا حصہ بڑھانے اور نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے اقدامات کرے۔ ہر کمپنی اپنے سیکٹر کی مصنوعات کی برانڈنگ، ویلیو ایڈیشن، ریسرچ، پراسسنگ، سرٹیفیکیشن، فنانسنگ اور کوالٹی کنٹرول سمیت تمام امو ر کی خود ذمہ دار ہو۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لئے ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کی فضا کو ختم کیا جائے۔ کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے لیکن حکومت اپوزیشن کو اعتماد میں لیکر اقدامات کرے تاکہ اس ساری تگ و دو کے مثبت اور دور رس نتائج حاصل ہوسکیں۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد وشمار مطابق ستمبر میں زرمبادلہ کے ذخائرمیں 1.2ارب ڈالر کی مزید کمی واقع ہوئی ۔

رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران ترسیلات زر میں14فیصد اضافہ دیکھنے میں آیاہے لیکن حکومت سعودی عرب اور چین سمیت دوست ممالک سے پاکستان کے زرمبادلہ کے استحکام کے لئے کوئی مدد حاصل نہیں کرسکی۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ حکومت خود بیرونی امداد اور قرضوں کے خلاف بیانات دے چکی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے مثبت معاشی پالیسیاں تشکیل دی جائیں اور طویل مدت میں پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششیں تیز کی جائیں۔

Your Thoughts and Comments