سٹیٹ بنک کا ڈسکائونٹ ریٹ کی شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ نئی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے‘پیاف

مارک اپ کی شرح میں اضافہ سے معاشی مسائل زیادہ ہونگے اور نہ صرف مقامی سرمایہ کاری کم گی بلکہ غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متزلزل ہو گا ، حکومت معیشت سے متعلقہ بینکنگ پالیسوں پر نظرثانی کرے ‘میاں نعمان کبیر، ناصر حمید خان، جاوید صدیقی

سٹیٹ بنک کا ڈسکائونٹ ریٹ کی شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ نئی سرمایہ کاری ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 دسمبر2018ء)پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسو سی ایشن فرنٹ(پیاف ) نے کہا ہے کہ سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ نئی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے ،یہ اضافہ انڈسٹریل سیکٹر اور معیشت کے لیے حقیقی معنوں میں فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکے گا۔چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر،سینئر وائس چیئرمین ناصر حمید خان اور وائس چیئرمین جاوید اقبال صدیقی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ شرح سود صنعتی شعبے کی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اس سے پیداواری لاگت پر براہ راست اثر پڑھتاہے کیونکہ پیداواری لاگت بڑھنے سے مقامی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے ملکی مہنگی مصنوعات عالمی منڈی میں دیگر ممالک سے مقابلہ نہیں کر پائیں گی اور ملکی برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوگی ۔

(جاری ہے)

ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے بھی درآمدی خام مال کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے خام مال کی لاگت میں اضافہ کے باعث مقامی صنعتوں کی پیداواری اخراجات بڑھ جاتے ہیں جس کے نتیجے میں مقامی مصنوعات عالمی منڈی میںدیگر ہم عصر ممالک کی مصنوعات سے مسابقت نہیں کرپاتیں جبکہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے بھی حکومت قرضوں پر سود ادائیگی میں بھی مشکلات کا شکار ہے اور حکومتی قرضوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔

اس لیے حکومت شرح سود کو واپس سنگل ڈیجٹ پر لائے ۔موجودہ حالات میں کاروباری برادری کو سستے قرضوںکی اشد ضرورت ہے۔ مارک اپ کی شرح میں اضافہ سے معاشی مسائل زیادہ ہونگے اور نہ صرف مقامی سرمایہ کاری کم ہو جائے بلکہ غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متزلزل ہو گا۔انہوں نے کہا کہ شرح سود میں اضافے سے بینکوں کے ڈیپازٹ میں تو اضافہ ہو رہا ہے لیکن اسکے باعث صنعتی ترقی میں کمی واقع ہو گی کیونکہ شرح سود میں اضافہ سے صنعتی ترقی میں کمی واقع ہو گی۔

پاکستان میں بلند شرح سود اور عالمی معاشی حالات میں ابتری کے باعث پاکستانی برآمدات اور درآمدات بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔چیئرمین پیاف نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ معیشت سے متلقتہ بینکنگ پالیسوں پر نظرثانی کریں اور نجی شعبے کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں۔وائس چیئرمین ناصر حمید خان نے کہا مارک اپ ریٹ میں کمی کا صحیح فائدہ حاصل کرنے کے لیے توانائی کا بحران اور دیگر مسائل کے حل پر توجہ نہ دی گئی تو مارک اپ ریٹ میںاضافہ سے معیشت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ معاشی مشکلات بڑھتی رئیں گی۔ صنعتی شعبے جو بحران کا شکار ہیں شرح سود میں اضافہ اس کی بحالی میں مددگاد ثابت نہیں ہوگا۔

Your Thoughts and Comments