پاکستان میں مالی معاملات کو ریگولرائز کرنے سے سفید اکانومی اور ٹیکس میں اضافہ ہوگا،میاں زاہد حسین

پاکستان امریکہ کی افغانستان میںمدد کے بدلے FATFکی گرے لسٹ سے نکلنے کی شرط عائد کرے،علائوالدین مری

پاکستان میں مالی معاملات کو ریگولرائز کرنے سے سفید اکانومی اور ٹیکس ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء)بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین اوربی ایم پی کے صدارتی امیدوار سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان علائوالدین مری نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف بڑے اقدامات کے باوجود FATFنے 27سفارشات پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جو باعث تشویش ہے۔

اینٹی منی لانڈرنگ انڈیکس پر پاکستان 25نمبر پر ہے، کئی ممالک بشمول تاجکستان، مالی، کینیا اور پانامہ کی AMLریٹنگ پاکستان سے کمزور ہے لیکن یہ ممالک FATFکی گرے لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔بی ایم پی لیڈران نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میںکہا کہ پاکستان کو امریکہ ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی سفارش پر گرے لسٹ کیا گیا ہے جو پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی70ہزار جانوں اور 120بلین ڈالر کی معاشی قربانیوںکے مذاق کے مترادف ہے اور سی پیک سمیت پاکستان میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ کا شاخسانہ ہے۔

(جاری ہے)

اپریل 2019 میں FATF ٹیم دوبارہ پاکستانی اداروں سے مالی معاملات پر مذاکرات کرے گی جس کے نتائج جولائی 2019میں ایشیاء پیسیفک گروپ کے سالانہ اجلاس میں پیش ہونگے اور پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ ہوگا۔حکومت FATFکی سفارشات کے عملی نفاذ کے لئے اقدامات کرے اور وزیر اعظم عمران خان امریکہ کی افغانستان سے باعزت انخلاء کے معاملے میں مدد کے بدلے پاکستان کو FATFسے نکالنے کی شرط عائد کریں۔

بزنس مین پینل کے لیڈران نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میںجاری اکائونٹ کا خسارہ5ارب ڈالرتک پہنچ چکا ہے جو گزشتہ مالی سال کے اس دورانیہ کے مقابلے میں 28فیصد زیادہ ہے جبکہ تجارتی خسارہ13ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔اس دوران صرف 600ملین ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی ہے جو گزشتہ مالی سال کے پہلے چار ماہ سی36فیصدکم ہے۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج دسمبر کے پہلے ہفتے میں 2ہزا پوائنٹس سے گر کر 38601پوائنٹس پر پہنچ گئی۔

دونوں جاری اکاونٹ خساروں کے پیش نظر بیرونی سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ کی اشد اورفوری ضرورت ہے ۔ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے سخت اقدامات کرنے ہونگے لیکن اس سے پاکستان میں مالیات سے متعلق مسائل بشمول منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ ختم کرنے میں مدد ملے گی اورسفید اکانومی اور ٹیکس میں زبردست اضافہ ہوگا۔پاکستان کے پاس ستمبر 2019تک کا وقت ہے، اس دوران میں اگر ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے تو پاکستان کے بلیک لسٹ ہوجانے کا خدشہ ہے جس سے پاکستان کی دگرگوں معاشی صورتحال مزید ابتر ہوگی اوربیرونی قرضوں کے حصول کے لئے بین الاقوامی اداروں کی سخت شرائط ماننے کے ساتھ ساتھ بیرونی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور پاکستان کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

علائوالدین مری نے کہا کہ حکومت جہاں ملک سے کرپشن کے خاتمہ کے لئے اقدامات کررہی ہے، وہیں ملک میں جاری معاشی بحران کو ختم کرنے کے لئے صنعتی ترقی ، سرمایہ کاری اور کاروباری مواقعوں کو بہتر کرنے کے لئے اقدامات کرے اور بزنس کمیونٹی کو درکار مراعات فراہم کرے۔

Your Thoughts and Comments