جنوبی ایشیاء کی معیشت میں بہتری اور ترقی کے واضح اشارے موجود ہیں، مستقبل میں خطہ کو ماحولیاتی تبدیلی سمیت دیگر معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،

سارک ممالک کو بھارت کے ساتھ بات چیت کرنا ہو گی تاکہ پلیٹ فارم کو مزید مؤثر بنایا جا سکے، جنوبی ایشیاء کے رکن ممالک اپنی معیشتوں کو ایک دوسرے تک وسعت دیں تو جنوبی ایشیاء دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن سکتا ہے صدر سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری روون ایدری سنگھے کا ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

جنوبی ایشیاء کی معیشت میں بہتری اور ترقی کے واضح اشارے موجود ہیں، مستقبل ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء) سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر روون ایدری سنگھی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے رکن ممالک اگر اپنی معیشتوں کو ایک دوسرے تک وسعت دیں تو جنوبی ایشیاء دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام منعقدہ 21ویں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاء کی معیشت میں بہتری اور ترقی کے واضح اشارے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سالوں میں مجموعی طور پر معاشی سرگرمیوں میں سست روی کا رجحان رہا ہے اور دنیا کی مجموعی قومی پیداوار میں خطہ کا حصہ 5 فیصد سے کم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں خطہ کو ماحولیاتی تبدیلی سمیت دیگر معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ خطہ میں سرمایہ کاری کے فروغ اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کیلئے دوستانہ ماحول کا قیام ضروری ہے، خطہ کے ممالک کو رکاوٹیں دور کرکے معیشت کو وسعت دینے میں کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ خطہ کے ممالک کو غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کیلئے توجہ مرکوز کرنا ہو گی اور اس سلسلہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہو گا۔ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کو سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دے کر خطہ کی مجموعی قومی پیداوار کو بڑھانے میں کردار ادا کرنا ہو گا۔

اس موقع پر سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر افتخار علی ملک نے کہا کہ سارک کے ممبر ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون کو فروغ دے کر خطہ میں تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں بڑھانا ہوں گی تاکہ جنوبی ایشیاء کا خطہ تیزی سے ترقی کر سکے اور روزگار کے مواقع پیدا کرکے غربت میں کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سارک کے ممبر ممالک کو بھارت کے ساتھ بات چیت کرنا ہو گی تاکہ سارک کے پلیٹ فارم کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

Your Thoughts and Comments