معیشت کی جلد بحالی کیلئے حکومت ٹھوس حکمت عملی وضع کرے،احمد حسن مغل

معاشی محاذ پر پائی جانے والی موجودہ غیر یقینی کی صورتحال نجی شعبے کیلئے تشویشناک ہے ،صدر چیمبر آف کا مرس

معیشت کی جلد بحالی کیلئے حکومت ٹھوس حکمت عملی وضع کرے،احمد حسن مغل
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جنوری2019ء)اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل نے کہا کہ معاشی محاذ پر پائی جانے والی موجودہ غیر یقینی کی صورتحال نجی شعبے کیلئے تشویشناک ہے کیونکہ موجودہ حکومت کے دور میں ابھی تک معیشت کو بہتر کرنے کی طرف کوئی مثبت پیش رفت نظر نہیں آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ نے 2018-19کے دوران پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار مزید کم ہو کر 3.7فیصد تک آنے کی پیشنگوئی کی ہے جو حوصلہ افزاء نہیں ہے لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت معیشت کی جلد بحالی کیلئے ٹھوس حکمت عملی وضع کرے تا کہ نجی شعبے میں اعتماد پیدا ہواور کاروباری سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے۔

انہوںنے کہا کہ تاجر برادری کو پی ٹی آئی حکومت سے بہت سی امیدی وابستہ ہیں کہ وہ کاروبار کیلئے سازگار حالات پید اکرے گی جس سے صنعت و تجارت کو بہتر فروغ ملے گا۔

(جاری ہے)

لیکن ابھی تک اس جانب کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آ رہی جس سے کاروباری طبقے میں ایک غیر یقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے۔ احمد حسن مغل نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے الیکشن سے پہلے بہت سے وعدے کئے تھے کہ حکومت میں آنے کے بعد اداروں کو مضبوط کیا جائے گا، نقصان میںچلنے والے سرکاری کمرشل اداروں کو منافی بخش بنایا جائے گا، گورننس کو بہتر کیا جائے گا اور ٹیکس ریونیو میں خاطرخواہ اضافہ کیا جائے گا لیکن تقریبا ساڑھے چار ماہ کا عرصہ گزرجانے کے باوجود ان میں سے کسی بھی شعبے میں واضع بہتری نہیں آ رہی جو باعث تشویش ہے۔

انہوںنے کہا کہ حکومت ابھی تک تجارتی و مالی خسارے کو کم کرنے کی طرف کوئی خاص پیش رفت نہیں کر سکی ۔انہوںنے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں روپے کی قدر میں گیارہ فیصد سے زائد کمی ہوئی ہے لیکن برآمدات میں صرف ایک فیصد بہتری ہوئی ہے جو حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام حالات میں حکومت کو چاہیے کہ وہ معیشت کو پائیدار ترقی کے راستے پر ڈالنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی وضع کرے تا کہ نجی شعبہ کاروباری سرگرمیوں کی ترقی کیلئے اعتماد کے ساتھ مستقبل کی منصوبہ سازی کر سکے۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر رافعت فرید نے کہا کہ جولائی تا اکتوبر 2018کے دوران بڑی صنعتوں کی مجموعی پیداوار بھی پچھلے سال اس عرصے کے مقابلے میں 0.65فیصد کم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے دوست ممالک کے تعاون سے ایک سال تک کیلئے مالی ضروریات پوری کر لی ہیں لیکن برآمدات اور ٹیکس ریونیو کو فروغ دیئے بغیر حکومت کیلئے معاشی چیلنجوں سے نمٹنا مشکل ہو گا۔ چیمبر کے نائب صدر افتخارانور سیٹھی نے یقین دہانی کرائی کہ تاجر برادری معیشت کو بہتر کرنے کی کوششوں میں حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی تا کہ سازگار حالات پیدا ہونے سے صنعت و تجارت کو بہتر فروغ ملے اور معیشت تیز رفتار ترقی کے راستے پر گامزن ہو۔

Your Thoughts and Comments