روپے کی قدر میں 15فیصد کمی کے باوجود برآمدات میں اضافہ نہ ہوسکا،میاں زاہد حسین

برآمدات میںاضافہ کے لئے برآمد کنندگان کو ترغیبات کے ساتھ ساتھ ریفنڈز کی جلد ادائیگی یقینی بنائی جائے،صدر کراچی انڈسٹریل الائنس

روپے کی قدر میں 15فیصد کمی کے باوجود برآمدات میں اضافہ نہ ہوسکا،میاں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2019ء)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل ایف پی سی سی آئی کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ جولائی سے دسمبر 2018آدھے مالی سال کے دوران روپے کی قدر میں 15فیصد کمی کے باوجود برآمدات میں صرف 2 فیصد اضافہ ہوا ہے اور درآمدات میں 16فیصد کمی آئی ہے جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 16.8 ارب ڈالر ہے جو گزشتہ مالی سال کے اس دورانئے سے 5فیصد کم ہے ، تاہم پاکستان اتنے بڑے تجارتی خسارہ کا متحمل نہیں ہوسکتا ، اسلئے حکومت کو برآمدات میں اضافہ کے لئے مزید اقدامات کرنے ہونگے۔

ترسیلات زر میں 10فیصد اضافہ ہوا ہے اور رواں مالی سال کے چھ ماہ کے دوران 10.72 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھیجی گئیں ہیں تاہم 11ارب ڈالر کا مقرر کردہ ہدف 2.5فیصد کمی سے حاصل نہیں ہوسکا۔

(جاری ہے)

میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میںکہا کہ پاکستان کے تیزی سے کم ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر اور بڑھتے ہوئے جاری اکائونٹ خسارے کے باعث ملکی معیشت بحران کا شکار ہے۔

نومبر 2018میں جاری اکائونٹ خسارہ تقریباً7ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر 4جنوری 2019کو 13.59ارب ڈالر ہیں جو 2ماہ کی درآمدات کے لئے ناکافی ہیں۔ پاکستان بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور آنے والے دو سالوں میں قرضوں کے ادائیگی کے حوالے سے شدید دبائو کا شکار رہے گا۔ملک میںنومبر 2018تک ہونے والی بیرونی سرمایہ کاری محض 880ملین ڈالر ہے جس میں 89فیصد حصہ صرف چین کا ہے ۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے دوست اور برادر اسلامی ممالک کے دوروں کے نتیجے میں سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور ترکی سمیت ملائیشیاء اور چین نے بھی پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچیسپی ظاہر کی ہے۔ سعودی عرب نے پنجاب میں دو LNGفائرڈ پاور پراجیکٹس خریدنے کا عندیہ دینے کے ساتھ ساتھ گوادر میں آئل ریفائینری قائم کرنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔

تاہم اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان میںگزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً3ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی تھی۔ متحدہ عرب امارات نے بھی گوادر کو برآمداتی حب بنانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری پر غور کا عندیہ دیا ہے ۔ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ پاکستان کی اہم ضرورت ہے ، جس سے نہ صرف پاکستانی صنعتیں اپنے پائوں پر کھڑی ہونگی بلکہ ملک میں بیروزگاری میں نمایاں کمی آئیگی۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ موجودہ حکومت معاشی مسائل کے حل میں سنجیدہ نظر آتی ہے تاہم برآمد کنندگان کے ریفنڈز تاحال واجب الادا ہیں، ریفنڈز کی جلد ادائیگی کا میکینزم تشکیل دیا جائے اور برآمد کنندگان کے لئے مختلف ترغیبات، گیس اور بجلی کی مسلسل بلاتعطل مناسب نرخوں پر فراہمی کے ساتھ ساتھ نئی بین الاقوامی منڈیاں تلاش کی جائیں تاکہ برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکے اور پاکستانی مصنوعات کی جدید انداز میں مارکیٹنگ اور برانڈنگ کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سرٹیفیکیشن کو آسان بنانے کے اقدامات کئے جائیں ، جس سے یقینا بہتر نتائج مرتب ہونگے۔

Your Thoughts and Comments