ڈالر کی قدرمیں اضافے کا اثر ادویات پر پڑگیا،

قیمتوں میں17فیصد تک اضافہ

ڈالر کی قدرمیں اضافے کا اثر ادویات پر پڑگیا،
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2019ء)موسم سرما کی ٹھنڈی ہوا اور خشک آب و ہوا اپنے دامن میں بیماریاں لے کر آتی ہے۔ خاص کر معصوم بچے خشک سردی کا شکار ہوکر نزلے زکام اور سینے کے دیگرامراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔اگست میں پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد حکومت کو سب سے بڑا چیلنج معیشت کے پہییکودرست سمت میں گھمانا تھا۔ گوناگوں مسائل میں سے ایک ادویات کی قیمتوں کی بلند ہوتی ہوئی سطح بھی ہے۔

موسمی اثرات کے شکار بچوں کو نیبولائیز کروانا اس بار تھوڑا مہنگا ہوگا کیوں کہ حکومت نے نیبولائزنگ ادویات اور سسپینشن کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔ دوا ساز کمپنیوں کی شکایت کے بعد کہ خام مال کی قیمتوں کافی اوپر جاچکی ہیں، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دیدی ہے۔

(جاری ہے)

گذشتہ سال کے مقابلے میں ڈالر 27 فیصد اوپرچلا گیا جس کی وجہ سے دواساز کمپنیوں کے لیے درآمد شدہ خام مال کی قیمتوں میں ازخود اضافہ ہوگیا۔

اس نقصان کو پورا کرنے کے لیے فارما سیکٹر نے ادویات کی قیمتوں میں 25 اضافے کا مطالبہ کردیا تاکہ وہ اپنا کام جاری رکھ سکیں۔تاہم حکومت نے عام استعمال میں آنے والی مثلا نزلہ، زکام کھانسی کی ادویات میں 9 فیصد اضافہ کردیا جبکہ دوروں ، امراضِ قلب اور نظامِ تنفس سے تعلق رکھنے والے امراض کی ایمرجنسی ادویات میں 15 فیصد اضافہ کردیا۔ کچھ ادویات کی قیمتیں 17 فیصد تک بڑھائی گئی ہیں۔

مثال کے طور پر ایک کمپنی کے نیبولائزر کی قیمت 377 ہوگئی ہے۔ اس کی سابقہ قیمت 320.45 روپے تھی۔ہول سیل مارکیٹ میں لوگوں نے سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ ادویات کی شدید قلت ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تاجر بلیک مارکیٹ میں ادویات کو من مانی قیمتوں پر فروخت رہے ہیں۔ زینکس اور ٹیگرال کے 30 گولیوں کے پیک کی سابقہ قیمتیں 350 تھیں۔ مگر اب ان کو بالترتیب 2100 اور 1200 کی قیمتوں پر بیچا جارہا ہے۔ادویات ساز کمپنیاں باہر ممالک سے ادویات کی تیاری کے لیے کیمیکل کے خام مال منگواتی ہیں۔ لیکن ڈالر کی بلند ہوتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ادویات کی تیاری مزید مہنگی ہوگئی ہے، جس سے دواساز کمپنیوں کا منافع کم ہوگیا ہے۔

Your Thoughts and Comments