نیا ویز ہ سسٹم سیاحوں کے لئے پاکستانی ویزہ کے حصول میںانقلابی آسانی پیدا کرے گا‘ میاں زاہد حسین

نیا ویز ہ سسٹم سیاحوں کے لئے پاکستانی ویزہ کے حصول میںانقلابی آسانی ..
کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 اپریل2019ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اوربزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ آن لائن ای۔ ویزہ کی سہولت ملک میں سیر وسیا حت کی صنعت اور اس سے وابستہ افرا د کی ترقی کے لئے سود مند ثابت ہوگی‘ نئے اور جد ید ای۔

ویزہ سسٹم سے یو کے، چین، ترکی، ملائیشیا اور متحدہ عرب امارات کے سیاح مستفید ہوسکیں گے۔ پیر کو جاری کردہ اعلامیہ میں انہوں نے کہا کہ جہاں پہلے پرانی ویزہ پالیسی کے تحت بیرونِ ملک سے آنے والے سیاحوں کو پاکستانی ویزہ کے حصول کے لئے دو ہفتوں پر محیط مشکل مراحل سے گز رنا پڑتا تھا، اب صرف چند ہی گھنٹوں میں پاکستان کا ویزہ گھر بیٹھے حاصل کرسکیں گے جس کے لئے وزیر اعظم عمران خان مبارکباد کے مستحق ہیں۔

(جاری ہے)

نئی ویز ہ پالیسی کے تحت ملک میں سیاحوں کی نقل وحمل سے پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔ پہلے سیاح اور ٹور آپریٹرز کو کشمیر، چترال اور گلگت بلتستان کے لئے حکومت کی جانب سے این او سی درکار ہوتا تھا، جسے حاصل کرنے کے لئے سیاحوں کو لمبی تگ ودو کرنی پڑتی تھی، اب ان علا قوں میں قائم سیاحتی مراکز اور ان سے وابستہ افراد اور ادارے معاشی ترقی کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹوارز م کا بہترین پوٹینشل موجود ہے۔ امریکہ سے جا ری کردہ مشہور جریدے فوربس میگزین کے مطابق پاکستان 2019ء میں دنیا بھر کی10 بہترین ٹورسٹ مقامات میں شامل ہے۔ اس کے علا وہ برٹش بیک پیکرز سوسائٹی نے پاکستان کو ایڈونچر کے شوقین حضرات کے لئے سب سے موزوں ایڈ ونچر مقام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستا ن ایڈونچر اور کوہ پیمائی کے رسیا افراد کے لئے دنیا بھر کی سب سے بہترین جگہ ہے، حکومت کو چاہئے کہ پاکستا ن میں سیر وسیا حت کی صنعت اور اس سے وابستہ انفرا اسٹرکچرپر خاص توجہ دے تاکہ پوری دنیا کے سیاحوں کی توجہ پاکستان کی جا نب مرکوز کی جاسکے جس سے نا صرف پاکستان خاطر خواہ زرمبادلہ حاصل کرسکے گا بلکہ عوام کو روزگار کے بے شمار مواقع بھی حاصل ہوںگے۔

میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کو اللہ نے بے پناہ قدرتی حسن سے نوازا ہے۔ دنیا کی20 بلند ترین پہاڑی چوٹیوں میں سے 8 پاکستا ن میں پائی جاتی ہیں اور پاکستان میں دنیا کی سب سے پہلی تہذیب انڈس ویلی سولائزیشن کے آ ثار قدیمہ ہڑپہ اور موئن جو دڑو بھی موجود ہیں جو اس وقت دنیا بھر کے مورخین کی توجہ کا مرکز ہیں، اگر ان آثار قدیمہ کی تزین و آرائش پر حکومتی سطح پر خصوصی توجہ دی جائے اور سیاحوں کے لئے ان آثار قدیمہ تک رسائی آسان بنائی جائے تو دنیا بھر سے پرانی تہذیبوں کو دیکھنے کے شوقین لاکھوں افراد کو ان کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے اور ہمالیہ کے پہاڑی اسٹیشنوں کو دنیا بھر کے موسم سرما کے کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لئے موزوںبنایا جائے اور ونٹر گیمز کا انعقاد کیا جائے تاکہ سیاحت کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی صنعت کو بھی ترقی دی جاسکے۔

میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان نا صرف قدرتی حسن سے مالا مال ہے بلکہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے ملاپ کا تاریخی مرکز ہے، پاکستان کے شمال میں یورپ کو چین اور مشرق بعید ایشیاء سے ملانے والے قدیم سلک روٹ کے آثار بھی ملتے ہیںاور ہنز ہ وچترال جیسی پر کشش وادیاں ہیں جو کسی بھی قدرتی حسن کے دلدادہ کا دل موہ لیتی ہیں، پاکستا ن کا ثقافتی دارلخلا فہ لاہو ر تاریخی مغل آرکیٹیکچرسے بنے قلعوں، مسجدوں اور مزارات سے بھرا پڑا ہے جو حکومت کی ذرا سی توجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورز م کونسل کے مطابق پاکستان کی ٹورزم انڈسٹری کا ملکی جی ڈی پی میں 7 فیصد تقریباً 20 ارب ڈالر کا حصہ ہے جس میں ہر سال 6 فیصد اضافہ متو قع ہے اگر حکومت سیاحت کی صنعت پر توجہ دے تو 2027ء میں ٹورز م کا ملکی جی ڈی پی میں تقریباً 36 ارب ڈالر حصہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود مختلف مذاہب بشمول سکھوں، ہندئوں اور بدھ مت کے مقدس مقامات نیز مغلیہ دور کی عمارات کو بہترین ٹورز م سائٹس میں تبدیل کرکے پاکستا ن کو دنیا میں نمبر 1 ٹریول اینڈ ٹورز م ملک بنایا جا سکتا ہے۔

Your Thoughts and Comments