ایف پی سی سی آئی میں لاقانونیت کا بازار عروج پر ہے : مرزا عبد الرحمان

ایف پی سی سی آئی میں شفافیت کے پہلو کو نظر انداز کرنے پر فیڈریشن پاکستان چیمبرز میں بر سر اقتدار گروپ یو بی جی پر شدید تنقید

ایف پی سی سی آئی میں لاقانونیت کا بازار عروج پر ہے : مرزا عبد الرحمان
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 15 اپریل2019ء) ایف پی سی سی آئی کی ا یگزیکٹو کمیٹی ممبر اور سابق نائب صدر مرزا عبد الرحمان نے کہا ہے کہ فیڈریشن پاکستان چیمبرز کامرس آف انڈسٹری میں برسر اقتدار گروپ یو بی جی کی قیادت اپنے بزنس کی بڑھوتری کے لئے فیڈریشن چیمبر ز کے صدر کے ذریعے غیر قانونی منظوریاں کر رہی ہے۔مرزا عبد الرحمان نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہFPCCI اورPITF کے درمیان بدر ایکسپو میں ایک کروڑ روپے مالیت کا ایک معاہدہ ہوا تھا جس کی رو سے بدر ایکسپو فیڈریشن کو ایک کروڑ روپے دینے کا پابند ہے مگر انھوں نے صرف پچاس لاکھ فیڈریشن کو دیا ہے جبکہ باقی کا پچاس لاکھ فیڈرشن میں برسر اقتدار گرقپ یو بی جی نے چھوٹ دے دی ہے۔

ایک دوسرا معاہدہ جو کہ فیڈرشن کا راشدعالم کمنی کے ساتھ ہے اس کمپنی نے فیڈریشن کو ستر لاکھ روپے دینے ہیں مگر صرف تیس لاکھ کی ادائیگی ہوئی ہے جبکہ باقی چالیس لاکھ یوبی جی نے چھوٹ دے دی ہے ۔

(جاری ہے)

یہ چھوٹ اور رعایت سراسر غیر قانونی اور نانصافی پر مبنی ہے۔کل نوے لاکھ کا فیڈریشن کو ٹیکہ لگایا گیا ہے جو کہ ایک بڑا نقصان ہے۔ مرزا عبد الرحمان نے کہا کہ یہ بندر بانٹ کا کون ذمہ دار ہے۔

یہ بزنس کمیونٹی کا پیسہ ہے اور اس نقصان کو کیسے پورا کیا جائے گا۔ اگر کسی نے چھوٹ یا روایت دینی ہے تو وہ FPCCI کا نقصان اپنی جیب سے پوارا کرے۔ فیڈریشن چیمبر ایک پریمیر ادارہ ہے اور بزنس کمیونٹی کے پیسوں کا محافظ ہے۔مزید براں مرزا عبد الرحمان نے کہا کہ فیڈریشن پاکستان چیمبرز کی آخری ای سی جی بی میٹنگ میں آڈٹ اینڈ فنانس کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور اپوزیشن جماعت بزنس مین پینل جو کہ الیکشن رزلٹ کے مطابق 43% شیئر ہولڈرر ہے اور مجوزہ کمیٹی میں آنے کا پورا استحقاق رکھتی ہے اسکے کسی بھی ممبر کو اس کمیٹی میں نہیں لیا گیا ہے۔

چونکہ پچھلی میٹنگ میں ای سی جی بی ممبران کی بہت کم تعداد نے شرکت کی اسلئے یہ ممکن نہ تھا کہ مطوبہ کورم کے بغیر آڈٹ اینڈ فنانس کمیٹی اور میٹنگ کے منٹس کی منظوری دی جائے اس مقصد کے لئے ای سی جی بی ممبران کی مطوبہ اکثریت درکار ہے۔بزنس مین پینل نے بھی ایف پی سی سی آئی میں شفافیت کے پہلو کو نظر انداز کرنے پر اور لاقانونیت کی پالیسی اختیار کرنے پر فیڈریشن پاکستان چیمبرز میں بر سر اقتدار گروپ یو بی جی پر شدید تنقید کا اظہار کیا ہے اور وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چند افراد پر مشتمل بااثر گروپ پاکستان کی معاشی پالیسیوں کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں خدارا ان سے جان چھڑائی جائے۔

Your Thoughts and Comments