آئی ایم ایف معاہدے کے بعد غیر یقینی صورتحال بہتر ہونے کا امکان ہے،میاں زاہد حسین

اب ملک کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کا چیلنج درپیش ہے، ایکسپورٹ میں اضا فہ کر کے عوام کو مہنگائی کے مہلک اثرات سے بچایا جاسکتا ہے

آئی ایم ایف معاہدے کے بعد غیر یقینی صورتحال بہتر ہونے کا امکان ہے،میاں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2019ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد دس ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال بہتر ہونے کا امکان ہے جس کے بعد ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کارمستقبل کے بارے میں فیصلے کر سکیں گے۔

اب پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے سنگین چیلنج کا سامنا ہے ۔نئی اکنامک ٹیم نے جس خوش اسلوبی سے آئی ایم ایف سے معاملات طے کئے ہیں امید ہے اسی طرح وہ ایف اے ٹی ایف کے خطرہ سے بھی ملک کو بچا لینگے۔میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد دیگر بین الاقوامی ادارے بھی پاکستان پر اعتماد کریں گے اس لئے حکومت کو چاہئے کہ معاشی بحالی کو اپنی ترجیحات میں سر فہرست رکھتے ہوئے یکسوئی سے ملکی ترقی کے ایجنڈے پر کام کرے اور ماضی کی حکومتوں پر تنقید کر کے اپنا وقت ضائع نہ کرے۔

(جاری ہے)

معاہدے کے نتیجے میں مہنگائی ، مارک اپ میں اضا فہ ،GDPاورPSDPمیں کمی سے عوام اور کاروباری برادری پر منفی اثرات مرتب ہونگے اس لئے تاجروں صنعتکاروں اور عوام کو مہنگائی کے مہلک اثرات سے بچانے کے لئے اکنا مک ایکٹیویٹی بڑھانے کے اقدامات کئے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈالر کی قدر کے تعین کو مارکیٹ پر چھوڑنے کے فیصلے پر اقتصادی ماہرین تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور اسے ضرر رساں قرار دے رہے ہیں جس پرسنجیدگی سے غور کیا جائے۔

معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات میں ناکام اداروں کی نجکاری کو ترجیح دینا ضروری ہے کیونکہ پی آئی اے مجموعی طور پر چار سو ارب جبکہ پاکستان سٹیل ملز مجموعی طور پر467 ارب سے زیادہ کا نقصان کر چکی ہے۔ سٹیل مل اب بھی ماہانہ دو ارب روپے کا نقصان کر رہی ہے ، واپڈا کو زندہ رکھنے کے لئے سالانہ کئی سو ارب روپے درکار ہوتے ہیں اس لئے ایسے اداروں پر مزید سرمایہ ضائع کرنا ملکی مفاد میں بہتر نہیں ہے۔

ان اداروں سے حکومت یا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ ان میں کام کرنے والے نا اہل لوگ فائدے میں ہیں جسکی قیمت ساری قوم مل کر ادا کرتی ہے۔انھوں نے کہا کہ1958 میں آئی ایم ایف سے پہلی بار قرضہ لیا گیاتو اس وقت ڈالر تین روپے کا تھا، 1988 میں جمہوریت کے سنہری دور کے آغاز سے قبل ڈالر اٹھارہ روپے کا تھا جو اب ایک سو چوالیس روپے کا ہو گیا ہے۔لیکن ایکسپورٹ میں اضا فہ نہیں ہوا ہمارا اصل مسئلہ اقتصادی نہیں تجارتی ہے لہٰذہ ایکسپورٹ میں اضافے کیلئے سیکٹر اسپیسیفک ایکسپورٹ کمپنیاں تشکیل دی جا ئیں ۔

وزیر اعظم عمران خان اگر مستقبل کے حکمرانوں کے راستے میں ایسی قانونی رکاوٹ کھڑی کر سکیں جو انھیں اپنی مرضی سے جب چاہیں اور جتنا چاہیں قرضے لینے سے روک سکے تو یہ انکی سب سے بڑی کامیابی ہو گی۔

Your Thoughts and Comments