پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات لانے کے لیے ٹیکس اتھارٹی کو خود مختار ادارہ بنایا جائے، محمد حنیف گوہر

پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات لانے کے لیے ٹیکس اتھارٹی کو خود مختار ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 مئی2019ء) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سابق نائب صدر اور ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے سابق چیئرمین محمد حنیف گوہر نے کہا ہے کہ پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات لانے کے لیے ٹیکس اتھارٹی کو سیکیورٹی اینڈ ا یکسچینج کمیشن پاکستان اور مسابقتی کمیشن کے طرح خود مختار بنایا جائے۔

چیئرمین ایف بی آر، شبر زیدی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد حالیہ اقدامات سے ٹیکس دہندگان کا حکومت پر اعتماد بحال ہورہا ہے۔ حنیف گوہر نے جمعرات کو جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس کمشنر کے پاس بینک اکائونٹس منجمد کرنے اور ان میں سے ٹیکس وصولی کرنے کا اختیار ختم کرنے سے کاروباری افراد اور حکومت میں عدم اعتماد کی فضا کا خاتمہ ہوگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں 350 ارب روپے سے زائد ٹیکسوں میں کمی کا سامنا ہے، ٹیکس وصولیوں کو بڑھانے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ سب سے پہلے ٹیکس وصولی کے نظام میں ٹیکس دینے والے اور ٹیکس وصول کرنے والے افسران کے درمیان براہ راست تعلق کو ختم کرنے کے لیے ایف بی آر کو مکمل طور پر آٹو میشن پر لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے ٹیکس نظام میں شفافیت آئے گی اور کرپشن کا خاتمہ ہوگا، ٹیکس وصولی کے نظام میں کرپشن پر قابو پالیا گیا تو پاکستان میں ٹیکس وصولیاں 8 ہزار ارب روپے تک بڑھ سکتی ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایسے کاروباری افراد جو ٹیکس نیٹ میں نہیں ان کا بھی مکمل ریکارڈ مل جائے گا۔حنیف گوہر نے چیئرمین ایف بی آر سے اپیل کی ٹیکس کی شرح میں کمی کرکے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے۔ حنیف گوہر نے کہا کہ ٹیکس اتھارٹی کو اختیار دیا جائے کہ وہ سول بیوروکر یسی سے افسران لینے کے بجائے ا پنا ہیومن ریسورس خود بھرتی کرے۔ حنیف گوہر نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ دستاویزی معیشت کا حجم بڑھانے کے لیے ایف بی آر کے ٹیکس وصولی نظام کودیگر حکومت ادارے نادرا، اسٹیٹ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کے تعاون سے ایک مربوط نظام بنایا جائے تاکہ ٹیکس نیٹ کا حجم بڑھایا جاسکے۔

Your Thoughts and Comments