سی پیک منصوبہ سے پاکستان اور چین دونوں کو فائدہ پہنچے گا، سردار شوکت پوپلزئی

سی پیک منصوبہ سے پاکستان اور چین دونوں کو فائدہ پہنچے گا، سردار شوکت ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 جون2019ء) بلوچستان اکنامکس فورم کے صدر سردار شوکت پوپلزئی نے کہا ہے چائنا پاکستان اکنامکس کوریڈور (سی پیک) پروگرام سے دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات وابستہ ہیں،34 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کے اس پروگرام سے 17ہزار میگاواٹ بجلی کے پیداواری منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان اپنی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

یہ بات انہوں نے محمد علی جناح یونیورسٹی (ماجو)کراچی کے ایم بی اے (پروجیکٹ) کے طلبہ سے سی پیک اور ون بیلٹ، ون روڈ پروگرام کے محرکات کے موضوع پر بطور مہمان سپیکر خطاب کرتے ہوئے کہی۔یونیورسٹی کی بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ سوشل سائینسز فیکلٹی کے ایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹر شجاعت مبارک اور فیکلٹی ممبر علی ناصر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سی پیک ایک علاقائی انضمام کا پروگرام ہے جس سے ملک کے پسماندہ صوبوں اور خاص طور پر بلوچستان کو بہت فائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے اثرات ایک لمبے عرصہ کے بعد سامنے آئیں گے جس کی بنا پر پاکستان کو علاقائی اقتصادی طور پر پاور فل راہداری ریاست بننے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے لئی3 اہم منصوبے زیر تکمیل ہیں جن کی تکمیل سے صوبہ کو ڈاون اسٹریم انڈسٹری جن میں آئیل ریفائینری،کھاد کے پلانٹس اور پیٹرو کیمیکل انڈسٹری شامل ہیں کے مواقع حاصل ہوںگے۔

انہوں نے کہا نہ صرف پاکستان بلکہ سینٹرل ایشیاء کے تمام ممالک اس پروگرام سے مستفید ہوسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے ، بے روزگاری کو کنٹرول کرنے اور نئی ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے میں بہت مدد دیں گے۔ سردار شوکت نے کہا کہ پاکستان کو پیپلز ریپبلک آف چائنا کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانے خصوصی طور پر بلوچستان کی ترقی کے لئے کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ چین ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی، براہ راست سرمایہ کاری، انرجی سیکٹر کے مشترکہ منصوبے، فشریز، فروٹ پراسیسنگ، ایگرو فوڈ، ٹورازم، لائیو اسٹاک اور منرل ڈیویلپمنٹ کے شعبوں میں بڑی مدد کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کا نجی شعبہ بھی ہم کو گوادر پورٹ کے لئے فنّی ماہرین کی فراہمی اور شہر کی ترقی کے لئے مدد کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی کامیابی کے لئے ون بیلٹ ون روڈ پروگرام اقتصادی ترقی کے ایک آلہ کی مانند ہے۔

دریں اثنا ماجو کے ایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹر شجاعت مبارک نے اپنے خطاب میں طلبہ کو موجودہ مانیٹری پالیسی، اس کی قسمیں، افراط زر کی شرح، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کردار اور ملک کو درپیش موجودہ مسائل کے بارے میں بریفنگ دی اور مہمان سپیکر سردار شوکت کو ماجو کی شیلڈ پیش کی۔

Your Thoughts and Comments