حکومت ترسیلات زر کے ذریعے پیداواری سرگرمیوں کو فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کرے ،اسلام آباد چیمبر آف کامرس

حکومت ترسیلات زر کے ذریعے پیداواری سرگرمیوں کو فروغ دینے کی حوصلہ افزائی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 جولائی2019ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل نے کہا کہ اس سال ترسیلات زر بڑھ کر 21ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں جو بہت حوصلہ افزاء ہیں لہذا انہوںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ترسیلات زر کو پیداواری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے استعمال میں لانے کی حوصلہ افزائی کرے جس سے ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو بہتر ترقی ملے گی اور معیشت مشکلات سے نکل کر بہتری کی راہ پر گامزن ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی سے ترسیلات زر میں مزید اضافہ متوقع ہے لہذا حکومت کو چائیے وہ پرکشش ترغیبات کے ذریعے ترسیلات زر کو کاروباری اور پیداواری سرگرمیوں کی طرف راغب کرے جس سے معیشت کیلئے کافی فائدہ مند نتائج برآمد ہوں گے۔

(جاری ہے)

احمد حسن مغل نے کہا کہ ملک میں بہت سے خاندانوں کا ذریعہ معاش ترسیلات زر سے وابستہ ہے اور عوام کی قوت خرید بہتر ہونے سے کاروباری سرگرمیوں کو بھی بہتر فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ایسی سکیمیں متعارف کرائے جن کے ذریعے ترسیلات زر کو بچت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری میں استعمال میں لانے کی حوصلہ افزائی ہو تا کہ ترسیلات زر معیشت کو مستحکم کرنے میں فعال کردار ادا کر سکیں۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے کہا کہ چین اور انڈیا نے بہتر پالیسیاں تشکیل دے کر ترسیلات زر کو سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کی طرف راغب کیا ہے جس وجہ سے ان کے کئی بیرون ممالک میں رہنے والے کئی شہریوں نے اپنے وطن آ کر کاروبار شروع کیا ہے لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ بہتر ترغیبات فراہم کر کے ترسیلات زر کو سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کی طرف راغب کرے جس سے ملک میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے افریقی ممالک نے بھی ترسیلات زر کے ذریعے بچت اور سرمایہ کاری کر فروغ دے کر قومی پیداوار اور معیشت کو بہتر کیا ہے لہذا ہماری حکومت کو بھی چائیے کہ وہ اس طرح کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہو کر ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں میں ترسیلات زر کا حصہ بڑھانے پر توجہ دے تاکہ معیشت کو فروغ دیا جا سکے ۔انہوںنے کہا کہ پاکستان میں ترسیلات زر کا حجم براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور ترقیاتی امداد سے بھی زیادہ ہے اور اگر ان کا حصہ بچت سکیموں میں بڑھایا جائے تو ملک میں کیپٹل مارکیٹ کو بہتر فروغ ملے گا اور کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے کیلئے فنڈز بھی زیادہ آسانی سے دستیاب ہوں گے۔

Your Thoughts and Comments