پاکستان میں سکلز کے خلاء کو کم کرنے کیلئے پہلے نیشنل ایکسلریٹر کا آغاز

عالمی اکنامک فورم کے صدر بورج برینڈے (Borge Brende)نے وزیر اعظم پاکستان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی

پاکستان میں سکلز کے خلاء کو کم کرنے کیلئے پہلے نیشنل ایکسلریٹر کا آغاز
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جولائی2019ء) عالمی اکنامک فورم کے صدر بورج برینڈے (Borge Brende)نے وزیر اعظم پاکستان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ملاقات میں وزیر اعظم نے پاکستان میں سکلز کی خلاء کو کم کرنے کیلئے عالمی اکنامک فورم کے اشتراک سے نیشنل ایکسلریٹر کے قیام کا اعلان کیاجس میں پنجاب سکلز ڈیولپمنٹ فنڈ بطور نیشنل سیکریٹریٹ کے شریک ہوگا۔



ورلڈاکنامک فورم پبلک پرائیوٹ شراکت داری کا عالمی ادارہ ہے۔ فورم میں اہم ترین سیاسی ، تجارتی اور معاشرے کے دیگر سربراہان جو عالمی ،علاقائی اور صنعتی ایجنڈے کو تشکیل دینے کی قوت رکھتے ہیں شریک ہیں۔ یہ ایک آزاد، غیرجانبدار ادارہ ہے اور کسی قسم کے خاص مفادات سے منسلک نہیں۔ فورم نے سینٹر فار نیو اکنامک اینڈ سوسائٹی (CNES)تشکیل دی ہے جو لیڈران کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جہاں وہ ابھرتے ہوئے اقتصادی اور سماجی چلینجز کو سمجھ سکیں۔

(جاری ہے)

فورم کے سینٹر فار نیو اکنامک اینڈ سوسائٹی نے PSDFسے شراکت میں مستقبل کی تعلیم اور کام سے مقابلہ کرنے اور پاکستان میں سکلز کی خلاء کوختم کرنے کیلئے نیشنل ایکسلریٹر قائم کیا ہے ۔ ایکسلریٹر کا مقصد موجودہ افرادی قوت میں ملازمت کوفروغ دینے اور مستقبل کی افرادی قوت میں کام سے منسلک تیاری اور اہم سکلز کو بڑھانے کا کام کرے گا۔

نیشنل ایکسلریٹر کی قیادت اور رہنمائی پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر کے اشتراک سے ایک ٹیم کرے گی۔

حکومت کی نمائندگی وفاقی وزیر برائے تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود اور وزیر اعظم کے مشیر برائے اوورسیز پاکستانی اور افرادی قوت ذوالفقار بخاری کریں گے جبکہ پرائیوٹ سیکٹر سے یونی لیور کی ایم ڈی شازیہ سید، حبیب بینک لمیٹڈ کے صدر و سی ای او محمد اورنگزیب، اینگرو کارپوریشن کے سی ای او غیاث خان اور پی ایس ڈی ایف کے سی ای او جواد خان نیشنل کورڈینیٹر ہوں گے۔



معیشت کی سب سے زیادہ حکمتِ عملی کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے ایکسلریٹر میں پاکستان کے سرفہرست اداروں کے 50سے 100 قابلِ قدر سربراہوں سمیت تعلیمی،پالیسی سازپیشہ وارمہارت کے تکنیکی ماہرین کو بھی شامل کیا جائے گا۔ سینٹر فار نیو اکنامک اینڈ سوسائٹی نے اس سے قبل ایسے 5ایکسلریٹرز ارجنٹائن، عمان، جنوبی افریقہ ،متحدہ عرب امارات اور بھارت میں قائم کئے ہیں جبکہ 2020تک مزید 10اور ایکسلریٹرز کے قیام کی توقع ہے۔



اجلاس میں وزیر اعظم نے پیشہ وارانہ مہارت میں ترقی کیلئے حکومت کے سیاسی اور مالیاتی عزم سے آگاہ کیا اور عالمی اکنامک فورم کا شکریہ ادا کیا جس نے پاکستان کو منتخب کرتے ہوئے سکلز کی خلاء کو کم کرنے کیلئے نیشنل ایکسلریٹر کا قدم اٹھایا۔ نیشنل ایکسلریٹر کی بین الاقوامی رسائی،تجربہ اور مہارت کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نے اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فورم کی شمولیت سے پاکستان کے نوجوانوں کیلئے نئے مواقع فراہم کرنے میں مدد ملے گی اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرکے نوجوانوں کو چوتھے صنعتی انقلاب کے اثرات سے بھرپور طور پر مستفید ہونے کیلئے تیارکرنے میں بھی مدد ملے گی۔




اس موقع پر ورلڈ اکنامک فورم کے صدر بورج برینڈے (Borge Brende)کا کہنا تھا کہ سکلز کی خلاء کوختم کرنے کیلئے نیشنل ایکسلریٹر کا آغاز پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے ، اور یہ ابھی شروعات ہے۔ پاکستان کی بیشتر قومی ترجیحات فورم کے کام کی بنیادی توجہ ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور علاقائی تعاون میں روابط فورم، پاکستان کی اقتصادی تبدیلی کی حمایت کیلئے اپنا پلیٹ فارم پیش کرنے کیلئے تیار ہے۔



فورم کے سینٹر فار نیو اکنامک اینڈ سوسائٹی کی سربراہ اور منیجنگ ڈائریکٹر سعدیہ زاہدی کا کہنا تھا کہ چوتھے صنعتی انقلاب سے آنے والے وقت میں عالمی سطح پر ملازمت اور سکلزکے افق پر اہم تبدیلیاں رونماں ہونگی اور پاکستان اس سے مستثناء نہیں ۔ ہمارے اس ایکسلریٹر کے قیام سے امید کرتے ہیں کہ پاکستان میں سیکھنے اور پیشہ وارانہ تربیت کیلئے ایک مربوط پلیٹ فارم پر عملدرآمد ہوگا جس کی حمایت کرتے ہیں۔



پنجاب سکلز ڈیولپمنٹ فنڈ کے سی ای او جواد خان نے کہا کہ ہمارے لئے اعزاز ہے کہ پاکستان میں نیشنل ایکسلریٹر کے بطور نیشنل سیکریٹریٹ منتخب کیاگیا۔ پی ایس ڈی ایف پہلے ہی غریب اور کمزور نوجوانوں کو مہارت اورپیشہ وارانہ تربیت کے ذرائع آمدنی میں اضافہ کے مواقع پیدا کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ فورم کے CNESکے اشتراک سے فورم کے بین الاقوامی تجربہ ، رسائی اور ساتھ ہی دیگر عالمی ایکسلریٹرز کے تجربہ سے مستفید ہونے کا موقع بھی حاصل ہوگا۔

Your Thoughts and Comments