وزیراعظم عمران خان امریکہ کے ساتھ ترجیحی تجارت کے معاہدے پر بات چیت کریں ، اسلام آباد چیمبر آف کامرس

امید ہے ورزیراعظم پاکستان کا امریکہ کا پہلا دورہ پاکستان کی معیشت کیلئے فائدہ مند نتائج کا باعث ہو گا ،پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کو مزید فروغ ملے گا

وزیراعظم عمران خان امریکہ کے ساتھ ترجیحی تجارت کے معاہدے پر بات چیت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 جولائی2019ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل، سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم عمران خان اپنے موجودہ دورہ امریکہ کے موقع پر امریکی قیادت کے ساتھ ترجیحی تجارت کا معاہدہ طے کرنے کیلئے بات چیت کریں کیونکہ اگر امریکہ پاکستان کے لئے تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرے اور پاکستانی مصنوعات کو اپنی منڈیوں میں ترجیحی رسائی فراہم کرے تو دونوں ممالک کی باہمی تجارت کو موجودہ تقریبا 6ارب ڈالر سے بڑھا کر چند سالوں میں12ارب ڈالر کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وزیراعظم پاکستان کا امریکہ کا پہلا دورہ پاکستان کی معیشت کیلئے فائدہ مند نتائج کا باعث ہو گا اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کو مزید فروغ ملے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس دورہ کے موقع پر امریکہ قیادت کے ساتھ دیگر موضوعات کے ساتھ ساتھ باہمی تجارت و سرمایہ کاری وزیراعظم پاکستان کی اہم ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے ۔

احمد حسن مغل نے کہا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کیا جس وجہ سے ہمارے ملک نے بے شمار جانی قربانیاں دیں جبکہ ہماری معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم عمران خان امریکی قیادت کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کریں کہ وہ ان نقصانات کاکچھ ازالہ کرنے کیلئے تمام ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو دور کرے اور پاکستان کی مصنوعات کو اپنی منڈیوں میں ترجیحی رسائی فراہم کرے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ صنعتی اداروں کو مضبوط بنانے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرے اور پاکستان کی معیشت کے مختلف شعبوں میں مزید جوائنٹ وینچرز قائم کرنے کے ساتھ ساتھ نئی سرمایہ کاری کرے۔ آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ پاکستان زیادہ تر ٹیکسٹائل مصنوعات امریکہ کو برآمد کرتا ہے تاہم امریکہ کی کل درآمدات میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کا حصہ صرف 3فیصد تک ہے۔

لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم عمران خان اپنے موجودہ دورہ کے موقع پر امریکہ قیادت کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کریں کہ وہ پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی درآمدات کو مزید بڑھائے جس سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گا، ادائیگیوں کی توازن کا مسئلہ حل ہو گا اور معیشت مشکلات سے نکل کر بہتری کی طرف گامزن ہو گی۔

Your Thoughts and Comments