اقتصادی استحکام کی خاطر بزرگوں پر بوجھ نہ بڑھایا جائی:میاں زاہد حسین

حکومت آمدنی بڑھانے کی کوششوں میں کمزور طبقات کی مشکلات کو مد نظررکھے،صدر کراچی انڈسٹریل الائنس

اقتصادی استحکام کی خاطر بزرگوں پر بوجھ نہ بڑھایا جائی:میاں زاہد حسین
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 نومبر2019ء)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ حکومت آمدنی بڑھانے اور اخراجات گھٹانے کے لئے مختلف اقدامات کا فیصلہ کرتے ہوئے کمزور طبقات کی مشکلات کو مد نظررکھے۔

قومی بچت کی ا سکیموں کے منافع میں کمی سے ان پر دارومدار رکھنے والی بیوائوں اور پینشنر ز کی مشکلات میں اضافہ ہو گا جو پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں اس لئے اقتصادی استحکام کی خاطر ان پر بوجھ نہ بڑھایا جائے۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ ملک میں ایسے لوگ قابل ذکر تعداد میں موجود ہیں جن کے پاس زندگی گزارنے کے لئے بچت سرٹیفیکیٹ کے علاوہ سرمایہ کاری کا کوئی محفوظ آپشن موجود نہیں ہے اس لئے انکی مجبوریوں کا ادراک ضروری ہے۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ بچت ا سکیموں پر منافع میں کمی سے سرمائے کا کچھ حصہ ا سٹاک ایکسچینج کی طرف جائے گا جس میں سرمایہ کاری غیر محفوظ اور مسائل جنم لینگے۔انھوں نے کہا کہ حکومت پراخراجات کم کرنے اور آمدنی بڑھانے کے لئے بہت دبائو ہے مگر ساتھ ہی یہ کسی بھی عالمی ادارے سے زیادہ اپنی عوام کو جوابدہ ہے۔انھوں نے کہا کہ جو لوگ اپنی ساری زندگی اس ملک اور اداروں کی ترقی کے لئے کوششیں کرنے میں گزار دیتے ہیں انکی پینشن کا نظام شفاف اور خون پسینے کی کمائی کو سرمایہ کاری کے بہانے لوٹنے کا سلسلہ بند ہونا چائیے۔

انھوں نے کہ پینشنروں کے لئے جمع ہونے والی رقم کوا سٹاک مارکیٹ میں انویسٹ کرنے پر پابندی عائد کرنا ضروری ہے تاکہ اربوں کھربوں کے اسکینڈلز کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند کیا جا سکے۔ پینشنروں کو پینشن کے حصول میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لئے اس سارے نظام کو خود کار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بزرگ شہریوں کے مسائل کم کئے جا سکیں۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ مرکز اور صوبوں نے امسال ترقیاتی منصوبوں پر 1.6 کھرب روپے خرچ کرنے ہیں مگر ابھی تک صرف140 ارب روپے خرچ کئے جا سکے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ترقیاتی بجٹ یا تو خرچ نہیں کیا جا سکے گا یا پھر فنڈز کو کسی دوسرے مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گاجس سے حکومت کی مشکلات کم مگر عوام اورمعیشت کے مسائل بڑھ جائیں گے۔

Your Thoughts and Comments