برآمدات میں اضافے کیلئے ’’ڈومو ٹیکس‘‘ جیسی نمائشوں میں پاکستان کی نمائندگی بڑھانے کی ضرورت ہے‘ کارپٹ ایسوسی ایشن

․بھارت کی جانب سے 300سٹالز لگائے گئے ہیں ،مالی معاونت کی شرح کم ہونے کیوجہ سے پاکستان کے سٹالز کی تعداد انتہائی کم ہے‘ اسلم طاہر

برآمدات میں اضافے کیلئے ’’ڈومو ٹیکس‘‘ جیسی نمائشوں میں پاکستان کی ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 جنوری2020ء)پاکستان کار پٹ مینو فیکچررز اینڈایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد اسلم طاہر نے کہا ہے کہ برآمدات میں اضافے کیلئے جرمنی میں منعقدہ ’’ڈومو ٹیکس‘‘ جیسی نمائشوںمیں پاکستان کی نمائندگی بڑھانے کی اشد ضرورت ہے اور حکومت اس کیلئے جامع پالیسی مرتب کرے ،مذکورہ نمائش میں بھارت کے برآمدکنندگان کی جانب سے تقریباً300سٹالز لگائے گئے ہیں جبکہ مالی معاونت کی شرح کم ہونے کی وجہ سے پاکستان کے سٹالز کی تعداد اس کے مقابلے میں انتہائی کم ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔

ان خیالات کا اظہارانہوںنے ایسوسی ایشن کے دفتر میں عہدیداروں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سینئر ممبر ریاض احمد، سعید خان ،میجر (ر) اخترنذیر ، محمد اکبر ملک سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔

(جاری ہے)

محمد اسلم طاہر نے کہا کہ جرمنی میں منعقدہ ’’ ڈوموٹیکس ‘‘ نمائش میں کارپٹ ایسوسی ایشن کا وفد بھی شریک ہے جو دنیا بھر سے آنے والے خریداروں اورمندوبین سے ملاقاتیں کرے گا جس سے ہماری برآمد ی انڈسٹری پر مثبت اثرات مرتب ہوںگے۔

انہوںنے کہا کہ اس طرح کی نمائشیں پاکستانی مصنوعات کی مارکیٹنگ کا موثر ذریعہ ہیں اور حکومت کو اس سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ برآمد کنندگان کی شرکت کویقینی بنانا چاہیے ۔کارپٹ ایسوسی ایشن کا وفد نا مساعدحالات کے باوجود بھرپور تیاری کے ساتھ نمائش میں شریک ہوا ہے اور امید ہے کہ اس سے قالینوںکی صنعت کو تقویت ملے گی ۔

محمد اسلم طاہر نے کہاکہ اطلاعات کے مطابق برآمد کنندگان کی بھرپور مالی معاونت کی وجہ سے ’’ ڈوموٹیکس‘‘نمائش میں بھارت کے 300کے قریب سٹالز لگائے گئے ہیں جبکہ انتہائی زیادہ اخراجات کی وجہ سے ہمارے سٹالز کی تعداد انتہا ئی کم ہے ،حکومت کو اس حوالے سے جامع پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے مزید کہا کہ برآمدات کے حوالے سے سخت شرائط عائد کرنے کی بجائے خصوصی رعایت دے اور خاص طو رپر سرمائے کی قلت ختم کرنے کے لئے ری فنڈ کے معاملات کو جلد سے جلد حل کیاجائے۔

Your Thoughts and Comments