ترک صدر کا تاریخی دورہ پاکستان باہمی تجارتی و معاشی تعلقات مزید مضبوط کرے گا‘ لاہور چیمبر

معاشی ترقی و دو طرفہ تجارت کے حوالے سے پاکستان کا اہم شراکت دار ہے‘ عہدیداروں کا مشترکہ بیان

ترک صدر کا تاریخی دورہ پاکستان باہمی تجارتی و معاشی تعلقات مزید مضبوط ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 فروری2020ء) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عرفان اقبال شیخ، سینئر نائب صدر علی حسام اصغر اور نائب صدر میاں زاہد جاوید احمد نے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے تاریخی دورہ پاکستان کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارتی و معاشی تعاون کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔

ایک بیان میں لاہور چیمبر آف کامرس کے عہدیداران نے کہا کہ ترکی ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور معاشی ترقی و دو طرفہ تجارت کے حوالے سے پاکستان کا اہم شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کے صدر کی پاکستان آمد پوری قوم کیلئے خوش آئند ہے اس سے دونوں ممالک کی دوستی مزید مستحکم ہو گی۔

(جاری ہے)

لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے مابین قدیم تاریخی تعلقات ہیں ، نہ صرف حکومتیں بلکہ دونوں ممالک کا نجی شعبہ بھی دو طرفہ تعلقات کے استحکام کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ترکی کو کاٹن، پلاسٹک ، آرٹیکل آف اپیرل اینڈ کلاتھنگ، ٹیکسٹائل و دیگر برآمد کرتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان بہترین اور فعال آزاد انہ تجارتی معاہدے کے ذریعے دو طرفہ تجارت کے حجم کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے، اس مقصد کے حصول کیلئے ٹیرف کے خاتمے کے ساتھ ساتھ نان ٹیرف بیرئیر کے حوالے سے خدشات کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں مشینی اور ہاتھ سے بنے دونوںطرح کے کارپٹ کی منفر ورائٹی میں الگ پہچان رکھتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے آٹو پارٹس مینوفیکچرر سپیئر پارٹس کی وسیع ورائٹی بنا رہے ہیں،جو بہترین کوالٹی اور بین الاقوامی معیار کے حامل ہونے کے باعث ترکی کو برآمد کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترکی کے صدر کے دورہ پاکستان سے ترک کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے حوصلہ افزائی ہو گی،پاکستان میں پاور سیکٹر ، آئل اور گیس تلاش کرنے، لیدر انڈسٹری، کھیلوں کا سامان، آٹو پارٹس سمیت دیگر شعبوں میں ترک سرمایہ کاروں کیلئے وسیع مواقع موجود ہیں۔

اس کے ساتھ ہی ترک پاکستان کی معاشی صلاحیتوں اور جیوگرافیائی لوکیشن سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

Your Thoughts and Comments