عوام کے لیے صحت تعلیم روزگارکی ناکافی سہولیات کی وجہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے: میاں زاہد حسین

اشرافیہ اقتصادی بدحالی کو ہوا دے رہی ہے، آئی ایم ایف سے معاملات حل کئے جائیں، مسائل کا حل ناجائز ٹیکس مراعات ختم، ڈائریکٹ ٹیکس پر فوکس میں مضمر ہے

عوام کے لیے صحت تعلیم روزگارکی ناکافی سہولیات کی وجہ وسائل کی غیر منصفانہ ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 فروری2020ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملک میں صاف پانی ،خوراک، صحت ،تعلیم ،توانائی اور روزگارکی ناکافی سہولیات کا تعلق وسائل کی کمی، بڑھتی ہوئی آبادی اورملکی و بین الاقوامی حالات سے اتنا نہیں ہے جتنا کہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے ہے۔

اشرافیہ کا ایک چھوٹا سا طبقہ ملکی وسائل پر قابض ہے اور انکا اثر رسوخ اور لالچ بڑھتا چلا جا رہا ہے جبکہ انھیں روکنے والا کوئی نہیں جس کے نتیجہ میں بدحالی، بے روزگاری،بے چینی اور تنازعات بڑھ رہے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ حکومت پر عوام کا اعتماد اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب تمام شعبوں پر ٹیکس کا بوجھ یکساں ہو، کسی شعبہ پر ٹیکس کا بوجھ ضرورت سے زیادہ نہ ہو، عوام کے بجائے متمول افراد کو ہدف بنایا جائے اور وسائل کی تقسیم کو منصفانہ بنایا جائے۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ گزشتہ سال ترقیاتی اخراجات میں 650 ارب کی کٹوتی کے باوجود بجٹ کا خسارہ 3445 ارب روپے تھا ۔ 2019-20 میں ایف بی آر کا ٹارگٹ 5503 ارب روپے رکھا گیا جس میں کمی کے باوجود ابتدائی چھ ماہ کے محاصل میں ہدف سے 43 فیصد کم وصولی ہوئی ۔ آئی ایم ایف نے ٹیکس ٹارگٹ میں مزید کمی سے انکار کر دیا ہے جسکی وجہ سے ایف بی آر کو سال رواں کے آخری چھ ماہ میں 54 فیصد اضافہ کرنا پڑے گا جو کسی صورت میں ممکن نہیں۔

اگر شرح نمو میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی جس کا امکان کم ہے تو ایف بی آر کا شارٹ فال 750 ارب روپے تک بڑھ جائے گاجبکہ زیادہ شرح سود کی وجہ سے قرضوں اور واجبات کی ادائیگی بھی بڑھ جائے گی۔2018-19 میں قرضوں اور واجبات کی ادائیگی میں 39 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سال رواں کے ابتدائی چھ ماہ میں ان میں 46 فیصداضافہ ہوا ہے جو آخری چھ ماہ میں مزید بڑھے گا۔

ادھر مرکز اور صوبوں نے ابتدائی چھ ماہ میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لئے مختص رقم میں سے صرف 28 فیصد خرچ کی ہے جبکہ سال رواں کے آخری چھ ماہ میں مزید کمی ممکن ہے۔انھوں نے کہا کہ ان مسائل کا حل اشرافیہ کو دی گئی ناجائز ٹیکس مراعات ختم کرنے اور ڈائریکٹ ٹیکس پر فوکس کرنے میں مضمر ہے جس پر ملکی تاریخ میں کسی حکومت نے بھی سنجیدگی سے عمل نہیں کیا اور عوام کو نچوڑنے کے شارٹ کٹ کو ترجیح دی جسکی وجہ سے ملکی معیشت اور عوام کا یہ حال ہو گیا ہے۔

اگرحکومت اور آئی ایم ایف کے مابین اختلاف جاری رہا اور پروگرام کو معطل یا منسوخ کیا گیا تو سب سے پہلا اثر زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑے گا اور بھاری سود کی وجہ سے غیر ملکیوں نے جو تین ارب ڈالر پاکستان میں رکھوائے ہو ئے ہیں وہ واپس چلے جائیں گے جس سے اقتصادی عدم استحکام بڑھ جائے گا۔

Your Thoughts and Comments