وزیر اعظم کا معاشی پیکیج خوش آئندمگرشرح سود میں کمی ناکافی ہے :میاں زاہد حسین

موجودہ حالات میں ڈبل ڈیجیٹ شرح سود اقتصادی خودکشی ہے، عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کے پیش نظر پاکستان میں بھی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں50فیصد کمی کی جائے

وزیر اعظم کا معاشی پیکیج خوش آئندمگرشرح سود میں کمی ناکافی ہے :میاں ..
کراچی  (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مارچ2020ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کااعلان کردہ معاشی پیکیج خوش آئند ہے مگر شرح سود میں کمی ناکافی ہے۔موجودہ حالات میں شرح سود کوڈبل ڈیجیٹ پر رکھنا اقتصادی خودکشی ہے۔

موجودہ شرح سود، بڑھتے ہوئے قرضے ، گردشی قرضے کا بے قابو جن،بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا نہ رکنے والا سلسلہ، ٹیکس کا گنجلک، استحصالی نظام ، توانائی کی کمپنیوں کی لوٹ مار اور گرتی برآمدات معیشت کے لئے کورونا وائرس سے زیادہ نقصان دہ ہے۔معیشت کو کمزور رکھا جائے تو ملک و قوم کو مسائل کا سامنا کرنے اور اکنامک شاک برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔

(جاری ہے)

میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ ایک طرف برآمدی آرڈرمسلسل کینسل ہو رہے ہیں جس نے ایکسپورٹرز کو ہراساں کر رکھا ہے تو دوسری طرف کارخانے حالات کی تاب نہ لاتے ہوئے بند ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں کے الیکٹرک نے کراچی کے صنعتکاروں سے 5 ارب روپے اینٹھنے کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ معاشی ماہرین نے شرح سود کو بہت زیادہ بڑھانے اور کمزور بنیادوں پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ لگانے کے لئے راغب کرنے کی مخالفت کی تھی مگر انکی ایک نہ سنی گئی۔

مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود کو زیادہ رکھنے سے صنعتی شعبے سمیت معیشت کے تمام اہم شعبے کمزور ہو گئے جبکہ ملک کو عارضی طور پرزرمبادلہ ملا لیکن اب اسکی تیز رفتار واپسی شروع ہو گئی ہے۔چند ہفتے میں غیر ملکیوں نے پاکستانی مارکیٹ سے 1.3ارب ڈالر نکال لئے ہیں کیونکہ انھیں کسی طویل المیعاد منصوبے کے لئے نہیں بلکہ صرف سود کھانے کے لئے رکھوایا گیا تھا۔

اب یہ پالیسی نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ترقی پذیر ممالک میں بھی ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے کیونکہ ترقی یافتہ ممالک کے سرمایہ کاروں نے دیگر ممالک میں رکھوائے گئے30 ارب ڈالر بھی نکلوا لئے ہیں جن سے انکی معیشت کو دھچکا لگا ہے۔پاکستان میں شرح سود بڑھانے سے غیر ملکی سرمایہ لایا گیا مگراس سے ملکی صنعت و کاروبار تباہ ہو گئے ہیں جبکہ نجی شعبہ مہنگا قرضہ لینے کے قابل نہ رہا جس سے پیداوار اور برآمدات متاثر اور لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے۔

انھوں نے کہا کہ مرکزی بینک کو صورتحال کا نوٹس لینا چائیے کیونکہ اب بھی شرح سود کو ڈبل ڈیجیٹ پر رکھنا اقتصادی خودکشی ہو گی۔عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں 70فیصد کمی ہوچکی ہے لہٰذا پاکستان میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں 50فیصد فوری کمی کی جائے ۔

Your Thoughts and Comments