سرحدچیمبر ا ٓف کا مر س اینڈ انڈسٹر ی نے حکو مت سے فور ی طور پر لا ک ڈ ائون کو ختم کر نے اور کار وبار کوہفتے کے 7دنوں اور 24گھنٹے کھلا رکھنے کی اجا زت دینے کا مطا لبہ

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 29 مئی2020ء)سر حدچیمبر ا ٓف کا مر س اینڈ انڈسٹر ی نے حکو مت سے فور ی طور پر لا ک ڈ ائون کو ختم کر نے اور کار وبار کوہفتے کے 7دنوں اور 24گھنٹے کھلا رکھنے کی اجا زت دینے کا مطا لبہ کیا ہے ۔بز نس کمیو نٹی کے انکم ٹیکس کی مدمیں ری فنڈ کی ادائیگی کو بلا تاخیر یقینی بنایا جائے ۔ بزنس فرینڈ لی پا لیسیوںکو بز نس کمیو نٹی اور متعلقہ اسٹیک ہو لڈر کو ا عتما د میں لے نافذ العمل کی جائیں۔

پا ک ا فغا ن بارڈر کو 24 گھنٹے تجارت کیلئے کھولا جائے اور پا ک افغا ن با ہمی تجا رت ، ٹر ا نز ٹ ٹر یڈ میں روکا ٹوںکو دو ر کر نے کیلئے عملی ا قدا مات کئے جا ئیں۔حکومت تاجر برادری کی دکانوں کے کرایوں کو معاف کرنے کے حوالے سے فوری طور پر پالیسی کو واضح کرے تاکہ لاک ڈائون سے متاثرہ بزنس کمیونٹی کو فوری طور پرریلیف مل سکے۔

(جاری ہے)

اگر حکو مت نے بز نس کمیو نٹی کے مطالبات فور ی طو ر پر تسلیم نہ کئے تو آئند ہ کا لا ئحہ عمل کا اعلا ن سرحد چیمبر کے زیر اہتمام منگل کے روزپر یس کانفر نس کے دوران کیا جائے گا۔

یہ مطالبات گذشتہ روز سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر مقصود انور پرویز کی زیر صدا رت تاجروں رہنمائوں ‘ صنعت کاروں اور ریٹیل سیکٹر سے وابستہ کاروباری افراد کی ایک ویڈیولنک کانفرنس کے دوران کیاگیا۔ کانفرنس میں سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر شاہد حسین ‘ نائب صدر عبدالجلیل جان ‘ سابق صدر ایف پی سی سی آئی کے غضنفر بلور ‘ سرحد چیمبر کے سابق صدور ریاض ارشد ‘ عدیل رئوف ‘ سابق چیئرمین آل پاکستان کمرشل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن انجینئر منظور الٰہی‘ انڈسٹریلسٹ ایسوسی ایشن حیات آبادپشاور کے صدر زرک خان ‘ سرحد چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین مجیب الرحمان ‘ غلام بلال جاوید اور سعید خان ‘ سلیمان ایچ ودود سمیت دیگر نے بھی ویڈیو کے ذریعے شرکت کی ۔

اجلاس سے شرکاء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار اور ملکی معیشت مزید لاک ڈائون کے محتمل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بزنس کمیونٹی نے لاک ڈائون کے دوران حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے اور آئندہ بھی کرے گی لیکن پالیسیوں میں نرمی لاکر کاروبار کو بھی بحال کیا جائے اور لاک ڈائون کو مکمل طور پر ختم کرکے 24 گھنٹوں کے لئے کاروبار کھولنے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہاکہ لاک ڈائون کی بزنس کمیونٹی کافی مالی مشکلات کا سامنا ہے اور اگر یہ لاک ڈائون مزید جاری رہا تو کاروبار مکمل طور پر ختم ہوجائے گا اور صوبے میںایک بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوجائیں گے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ حکومت لاک ڈائون کے حوالے یکساں پالیسی کے نفاذ کو یقینی بنائے نہ کہ صرف خیبر پختونخوا میں کاروبار کو صرف 4 دن کھلارکھنے کی اجازت دینا اس دہشت گردی سے متاثرہ صوبہ کے ساتھ سراسر ناانصافی اور زیادتی ہے ۔

سرحد چیمبر کے صدر انجینئر مقصود انور پرویز نے کہاکہ لاک ڈائون کو متفقہ SOPs کے تحت ختم کیا جائے اور تمام کاروبار کو 24/7 کام کرنے کی اجازت دی جائے جس سے Covid-19 کے چانسز کم ہوں گے اور اس سلسلے میں انتظامیہ کو بھی بزنس کمیونٹی کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکو مت نے بز نس کمیو نٹی کے مطالبات فور ی طو ر پر تسلیم نہ کئے تو آئند ہ کا لا ئحہ عمل کا اعلا ن سرحد چیمبر کے زیر اہتمام منگل کے روزپر یس کانفر نس کے دوران کریں گے۔

Your Thoughts and Comments