روئی کے بھاؤ میں فی من 400 روپے کی نمایاں کمی، بارشوں کے سبب فصل متاثر ہوئی

اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 350 روپے کی کمی کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 8550 روپے کے بھاؤ پر بند کیا

روئی کے بھاؤ میں فی من 400 روپے کی نمایاں کمی، بارشوں کے سبب فصل متاثر ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 ستمبر2020ء)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کی جانب سے روئی کی خریداری میں نسبتا کم دلچسپی اور جنرز کی جانب سے روئی کی گھبراہٹ بھری فروخت کے سبب روئی کے بھا ؤمیں فی من 400 تا 500 روپے کی نمایاں کمی واقع ہوئی بھا ؤکم ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ بارشوں کی وجہ سے فی الحال تیار ہونے والی روئی کی کوالٹی خراب ہے خصوصی طور پر صوبہ سندھ میں بارشوں کے سبب روئی کی کوالٹی زیادہ متاثر ہوئی ہے صوبہ سندھ میں ہلکی کوالٹی کی روئی کا بھاؤ کم ہوکر فی من 7500 روپے کے بھاؤ تک بک چکی تھی۔

صوبہ پنجاب میں روئی کی کوالٹی نسبتا اچھی ہے وہاں روئی کا بھاؤ نسبتا ٹھیک کہا جاسکتا ہے۔ صوبہ سندھ میں روئی کا بھا ؤکوالٹی کے حساب سے فی من 7500 تا 8200 روپے پھٹی کا بھا ؤفی 40 کلو 3000 تا 3800 روپے جبکہ بنولہ فی من 1550 تا 1600 روپے رہا جبکہ صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 8500 تا 8650 روپے پھٹی کا بھا ؤفی 40 کلو 3300 تا 4000 روپے بنولہ کا بھا ؤفی من 1700 تا 1750 روپے رہا صوبہ بلوچستان میں روئی کا بھاؤ فی من 8200 تا 8300 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کوالٹی کے حساب سے 4000 تا 4800 روپے رہا۔

(جاری ہے)

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 350 روپے کی کمی کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 8550 روپے کے بھاؤ پر بند کیا۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں روئی کا بھاؤ ملا جلا رہا۔ نیویارک کاٹن کے وعدے کے بھاؤ میں ملا جلا رجحان رہا۔ چین اور امریکا کے مابین کشیدگی جاری ہے جبکہ ڈالر کے بھاؤ میں اتار چڑھا کے سبب بھی نیویارک کاٹن کے وعدے کے بھاؤ میں ردوبدل ہوتا رہا۔

یو ایس ڈی ای کی ہفتہ وار برآمدی رپورٹ میں کمی رہی گو کہ اس مرتبہ بھی چین بڑا خریدار رہا۔ بھارت میں روئی کے بھاؤ میں اضافہ کا رجحان رہا جبکہ چین میں روئی کا بھاؤ مجموعی طورپر مستحکم رہا۔ برازیل اور ارجنٹینا میں بھی روئی کا بھاؤ نسبتا مستحکم رہا۔سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان میں ہونے والے سی سی ایم جی کے تیسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر زراعت پنجاب نعمان احمد لنگڑیال کا شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت کپاس کے کاشتکاروں کے مسائل کے حل کے لئے پوری طرح کوشاں ہے اور کاشتکاروں کو ہر ممکنہ ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر زراعت نے بریکنگ نیوز کے طور پر کپاس کے کاشتکاروں کو خوشخبری کی نوید سنائی کہ سال 2021 کپاس کی بحالی وترقی اور اچھے بیج کی دستیابی کا سال ہوگا۔ اب کپاس کی زبوں حالی کا دور ختم ہونے کے قریب ہے اور اگلے سال کی حکمت عملی کے تحت کاشتکاروں کو اچھی پیداوار دینے والے نئی ٹیکنالوجی سے مزین بیجوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اور یہ بیج نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں کے عین مطابق تیار کئے جائیں گے بلکہ کپاس کے کیڑے مکوڑوں خاص کر سفید مکھی اور گلابی سنڈی کے خلاف بھی کافی مئوثر ثابت ہوں گے اور حکومت پنجاب نے ابھی سے ہی اگلے سال کی حکمت عملی ترتیب دے لی ہے اور اس پر ایک آٹھ رکنی کمیٹی پہلے ہی تشکیل پاچکی ہے جس کا مقصد آئندہ سال کے لئے کپاس کے کاشتکاروں کے لئے کپاس کے اعلی اور معیاری کوالٹی والے بیجوں کی تیاری کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کرنا ہے۔

ایک تحقیقات کے مطابق گلابی سنڈی کپاس پیدا کرنے والے تقریبا تمام ممالک میں پائی جاتی ہے کپاس کی گلابی سنڈی کپاس کے دیگر کیڑے مکوڑوں کے نسبت زیادہ نقصان پہنچاتی ہے ستمبر تا اکتوبر اس کیڑے کے حملے کی شدت بڑھ جاتی ہے۔کپاس کے نرم ٹینڈے اس کی مرعوب غذا ہے گلابی سنڈی کپاس کے سبز پتھوں کی نچلی سطح، شکوفوں، پھولوں یا نرم ٹینڈوں پر انڈے دیتی ہے موضوع موسم اور درجہ حرارت پر 3 تا 7 دنوں میں انڈے سے بچے نکل آتے ہیں ایک مادہ گلابی سنڈی 100 تا 300 تک انڈے دیتی ہے اور کپاس کے 2 سے 3 ہفتوں کے نرم ٹینڈے، ڈوڈیاں اور پھول اس سنڈی کے حملے کا خاص طور پر نشانہ بنتے ہیں سمتبر تا اکتوبر کپاس کی فصل کیلئے بہت اہم ہے ان مہینوں میں کپاس کی تقریبا 80 فیصد پیداوار ہوتی ہے اور اسکے ساتھ ساتھ گلابی سنڈی کے وار سے بچنا بھی بہت ضروری ہے بارشوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں کمی اور رطوبت میں اضافہ سے اس کی نسل آگے بڑھتی ہے اس نازک مرحلے پر فصل کی نگہداشت بہت ضروری ہے۔

Your Thoughts and Comments