کپاس کی پیداوار میں 8 لاکھ گانٹھوں کی غیر معمولی کمی

ٹیکسٹائل ملز روئی کی درآمد بڑھا دیں گے، ملک کی معیشت کی زبو حالی میں مزید اضافہ ہوگا

کپاس کی پیداوار میں 8 لاکھ گانٹھوں کی غیر معمولی کمی
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 ستمبر2020ء)پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن نے 15 ستمبر 21-2020 کی سیزن کے کپاس کی پیداوار کے پہلے اعداد و شمار جاری کیا ہے جس کے مطابق اس عرصے تک ملک میں کپاس کی پیداوار 10 لاکھ 35 ہزار گانٹھوں کی ہوئی ہے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کی پیداوار 18 لاکھ 52 ہزار گانٹھوں سے 8 لاکھ 44.12 فیصدکم ہے۔ کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان کے مطابق کپاس کاروبار سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سال طوفانی بارشوں، ناموافق موسمی حالات، کورونا لاک ڈاؤن اور خصوصی طور پر ناقص بیجوں کے باعث کپاس کی پیداوار اور کوالٹی میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے جس کے باعث کپاس کے کاشتکاروں کو شدید نقصان ہوا ہے علاوہ ازیں پھٹی کی چنائی کرنے والی خواتین، فیکٹریوں میں کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں اور کئی جننگ یونٹس نہ چلنے کی وجہ سے جنرز کو بھی زبردست نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

(جاری ہے)

اپٹما کے ذرائع کے مطابق اس سال کپاس کی پیداوار گزشتہ سال سے بھی کم ہونے کی وجہ سے ملوں کی ضرورت پوری کرنے کی غرض سے بیرون ممالک سے زیادہ مقدار میں روئی کی درآمد کرنی پڑے گی گو کہ ٹیکسٹائل ملوں کے کئی بڑے گروپ فی الحال روئی کی درآمد کررہے ہیں خصوصی طور پر جن ملوں کو ٹیکسوں سے استثنیٰ ہے DTRE کی سہولت میسر ہے وہ اب زیادہ مقدار میں روئی کی درآمد کرنے لگے ہیں۔ کپاس کی کم پیداوار کی وجہ سے پہلے ہی زبو حالی میں مبتلا ملک کی معیشت پر مزید بوجھ بڑھ جائے گا۔

Your Thoughts and Comments