ترسیلات زرمیں اضافہ کیلئے پاکستان کی کوششیں قابل تعریف ہیں، آئی ایم ایف

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 ستمبر2020ء) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے ترسیلات زرمیں اضافہ کیلئے پاکستان کی کوششوں کوسراہتے ہوئے کہاہے کہ حکومتوں کو اس ضمن میں پاکستان جیسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈکی سٹریٹیجی، پالیسی وجائزہ ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی یونٹ چیف ڈاکٹر رونالدکان گنی کودراور ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ اکانومسٹ سعدقیوم نے اپنے مشترکہ آرٹیکل میں کہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ کوویڈ19 نے سمندرپارمقیم شہریوں کی ترسیلات زرپرانحصارکرنے والے تمام ممالک کومتاثرکیاہے۔ بیرون ممالک نقل مکانی کرنے والے ورکرزمیں سے بہت ساروں کا روزگارمتاثرہواہے، ان میں سے بیشترکومیزبان ممالک میں سماجی تحفظ اورامداد کا حق حاصل نہیں ہوتا کیونکہ ان کے ویزوں کی نوعیت مختصرمدت کیلئے ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

کئی ممالک نے وبا کے تناظرمیں امیگریشن قوانین سخت کردئیے ہیں جس سے مہمان ورکروں کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ وبا اورتیل کی قیمتوں میں کمی سے خلیج اورروس سمیت تیل پیداکرنے والے ممالک میں کام کرنے والے ورکروں کی پریشانیوں میں مزیداضافہ ہواہے۔ عالمی بینک نے اپریل میں ترسیلات زرمیں 20 فیصد کی کمی کاخدشہ ظاہرکیاتھا،عالمی ترسیلات زرمیں یوروخطہ کا تناسب 19 اورخلیج تعاون کونسل کا حصہ 18 فیصد ہے،خلیج تعاون کونسل کے ممالک کا سال 2020 میں عالمی ترسیلات زرمیں حصہ منفی 13 فیصد تک ریکارڈکیاگیاہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومتوں کو ترسیلات زرمیں اضافہ اوراس کی ترسیل کو سہل بنانے کے ضمن میں قوانین اورضابطوں میں بہتری لانا ہوگی۔مثال کے طورپرموبائل فون کے زریعہ ایک خاص حد تک رقوم کی منتقلی سے متعق ضوابط کوتبدیل کرنا چاہئیے۔انہوں نے ترسیلات زرمیں اضافہ کیلئے پاکستان کے اقدامات کی تعریف کی ہے اورکہاہے کہ پاکستان نے منی ٹرانسفرخدمات فراہم کرنے والے اداروں کو فیس میں کمی اورترسیلات زرپرترغیبات دی ہیں جو ایک سمارٹ قدم ہے، دیگرممالک کو بھی اس سلسلے میں پاکستان کی پیروی کرنا چاہئیے۔

Your Thoughts and Comments