حکومتی سرپرستی سے ایسوسی ایشن دیہی علاقوں میں وسیع پیمانے پر روزگار کی فراہمی میں مدد فراہم کرسکتی ہے

پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹر ز ایسوسی ایشن

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 ستمبر2020ء) پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹر ز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ حکومتی سرپرستی سے ایسوسی ایشن دیہی علاقوں میں وسیع پیمانے پر روزگار کی فراہمی میں مدد فراہم کرسکتی ہے ، گھریلو سطح پر چھوٹے کارخانے لگانے کیلئے بلا سود قرضوں کیلئے سکیم لائی جائے، برآمدات کے فروغ کیلئے حکومتی اقدامات قابل تعریف ہیں تاہم نتائج کے حصول کیلئے رفتار تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔

یہ بات ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد اسلم طاہر کی زیرصدارت جائزہ اجلاس میں کہی گئی ۔اجلاس میںکارپٹ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن پرویز حنیف ، سینئر مرکزی رہنما عبد اللطیف ملک،سینئر ممبر ریاض احمد،ملک اکبر، اعجاز الرحمان، میجر (ر) اختر نذیر سمیت دیگر نے شرکت کی ۔

(جاری ہے)

محمد اسلم طاہر نے کہا کہ دیہی علاقوں میں غربت اور بیروزگاری کی شرح انتہائی زیادہ ہے جس کیلئے فوری منصوبہ بندی کر کے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔

کارپٹ انڈسٹری روزگار کی فراہمی کے لئے موثر ترین ذریعہ ہے جس کے ذریعے انتہائی کم خرچہ سے دیہاتوں میںگھروں کی دہلیز پر روزگار کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔حکومت گھریلو سطح پر چھوٹے کارخانے لگانے والوں کی معاونت کرے اور ان کے لئے بلا سود قرضوں کا اجراء کیا جائے ۔ اس طرز کے منصوبوں سے غربت ختم کر کے پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے لئے رول ماڈل بن سکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مجموعی ترقی کیلئے برآمدات کو فروغ دینا ہوگا اور اس کیلئے ہمیں ویلیو ایڈڈ انڈسٹری کی جانب بڑھنا ہوگا اور ایمر جنسی کی طرز پر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ حکومت برآمدات کے فروغ کے لئے قابل ستائش اقدامات کر رہی ہے لیکن نتائج حاصل کرنے کے لئے رفتار مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مینو فیکچررز اور ایکسپورٹرز کے مسائل سے آگاہی حاصل کرنے اور برآمدات کے فروغ میں حائل رکاوٹوں کو دورکرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

Your Thoughts and Comments