بیرونی براہ راست سرمایہ کاری میں سہولت

اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو مکمل اختیار کے ساتھ ڈس انوسٹمنٹ آمدنی کی منتقلی کا شفاف اور آسان طریقہ کار متعارف کرا دیا

بیرونی براہ راست سرمایہ کاری میں سہولت
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 اکتوبر2020ء)بینک دولت پاکستان نے پاکستان میں کمپنیوں کو ڈس انوسٹمنٹ آمدنی اپنے غیرملکی حصص داروں کو باآسانی منتقل کرنے میں مدد دینے کے لیے ایک نیا طریقہ کار متعارف کرایا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا کر اور کاروبار کرنے کی آسانی کو تقویت دے کر پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام بنانا ہے۔

نیا طریقہ کار سرمایہ کاروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے صلاح مشورے کے ساتھ تشکیل دیا گیا ہے۔سابقہ طریقہ کار میں مقرر کردہ بینک کو فہرستی تمسکات کے لیے مارکیٹ کی قیمت سے زیادہ اور غیرفہرستی تمسکات کے لیے بریک اپ قیمت سے زیادہ ڈس انوسٹمنٹ آمدنی کی ترسیل کی خاطر اسٹیٹ بینک کی منظوری درکار ہوتی تھی۔

(جاری ہے)

اس شرط کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو متعدد رکاوٹیں پیش آتی تھیں۔

نئے طریقہ کار کے تحت کمپنی کے مقررکردہ بینک کو ایک آسان طریقے پر عمل کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک سے رجوع کیے بغیر مطلوبہ دستاویزات جمع کرانے پر تمام ڈس انوسٹمنٹ آمدنی غیررہائشی حصص داروں کو منتقل کرنے کا اختیار سونپ دیا گیا ہے۔مطلوبہ دستاویزات کی تعداد ٹرانزیکشن کے حجم کے مطابق ہوگی۔ڈس انوسٹمنٹ کی اس آمدنی کے لیے جو مارکیٹ قیمتبریکاپقیمتسیمتجاوزنہہومطلوبہ دستاویزات میں یہ شامل ہیں: شیئر پرچیز ایگریمنٹ کی نقل، کوٹیڈ شیئر کی صورت میں بروکر کا میموغیرفہرستی حصص کی صورت میںایک فعال کیوسی آرکے حامل چارٹرڈاکائونٹنٹ کابری کاپویلیوسرٹیفکیٹ،کمپنی کے تازہ ترین آڈٹ شدہ مالی گوشوارے، دستخط شدہ ایم فارم اور خریدار کی طرف سے یہ حلف نامہ کہ اگر ٹرانزیکشن متعلقہ فریقوں کے درمیان ہے تو اسے آرمز لینتھ (arms-length)بنیاد پر چکا دیا گیا ہے۔

ڈس انوسٹمنٹ کی اس آمدنی کے لیے جو مارکیٹ قیمتبریکاپقیمتسیمتجاوز ہو اضافی مطلوبہ دستاویزات یہ ہیں: خریدار کی جانب سے تفصیلی ویلیوایشنٹرانزیکشن کی جانچ پڑتال جس میں ویلیوایشن کی بنیاد، طریقہ اور اہم ویلیوایشن میٹرکس شامل ہوں۔ اگر ڈس انوسٹمنٹ آمدنی کی مجموعی ترسیل چھ ماہ کے عرصے کے دوران 50 ملین ڈالر (یا دیگر کرنسیوں میں اس کے مساوی) سے زیادہ ہو تو درخواست گزار خریدار کی آزادانہ ویلیو ایشن جو ایک کیو سی آرکے حامل فعال چارٹرڈ اکانٹنٹ سے کرائی گئی ہو بھی جمع کرائے گا، جسے مقرر کردہ بینک جانچے گا اور اسٹیٹ بینک کو بھیجنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اسٹیٹ بینک کا یہ اقدام سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھائے گا اور مقامی کمپنیوں خصوصا نئی کمپنیوں کو اپنے کاروبار کے لیے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری لانے میں سہولت فراہم کرے گا۔

Your Thoughts and Comments