مقامی کاٹن مارکیٹ میں ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کی محتاط خریداری جاری رہی

صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ فی من 8450 تا 9400 روپے پھٹی کا بھاؤ کوالٹی کے حساب سے فی 40 کلو 3000 تا 4200 روپے رہا

مقامی کاٹن مارکیٹ میں ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کی محتاط خریداری جاری رہی
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 نومبر2020ء)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کی محتاط خریداری جاری رہی جبکہ جنرز بھی روئی فروخت کرتے رہے کاروبار نسبتا بہتر کہا جاسکتا ہے ہفتہ کے پہلے تین روز میں نسبتا کم کاروبار ریکارڈ کیا گیا ٹیکسٹائل ملز نے COVID-19 کی دوسری لہر سے گھبرا کر خریداری محدود کردی تھی لیکن پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن نے 15 نومبر تک کپاس کی پیداوار کے اعداد و شمار جاری کئے جس میں اس عرصے کے دوران کپاس کی پیداوار 41 فیصد یعنی گزشتہ سال کے اسی عرصے کی پیداوار سے ساڑے 28 لاکھ گانٹھیں تشویشناک حد تک کم ہونے کی وجہ سے کئی ملز نے اچھی کوالٹی کی روئی میں خریداری بڑھادی جس کے باعث روئی کا بھاؤ مستحکم ہوکر بعد ازاں بڑھنے لگا جو فی من 200 تا 300 روپے بڑھ گیا اسی طرح کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کا اسپاٹ ریٹ جو کم ہوتا جارہا تھا اس میں اضافہ دیکھا گیا دوسری جانب کپاس کی کم پیداوار کو مد نظر رکھتے ہوئے جنرز نے بھی پھٹی کی خریداری بڑھادی تقریبا غلہ منڈیوں میں پھٹی کا اسٹاک جمع ہورہا تھا وہ فروخت ہوگیا۔

(جاری ہے)

COVID-19 کا زور بڑھتا جارہا ہے جس کے باعث ٹیکسٹائل ملز شش و پنج میں مبتلا ہوکر روئی وافر مقدار میں خریدنے سے اجتناب برتنے لگے ہیں دوسری جانب ٹیکسٹائل ملز کے بڑے گروپوں نے بھی روئی کی درآمد نسبتا کم کردی ہے کیوں کہ ڈالر کی قیمت بھی بڑھتی جارہی ہے وہ کس حد تک جائے گی اسکا اندازہ لگانا تاہم مشکل ہے بہر حال اطلاعات کے مطابق فی الحال ٹیکسٹائل ملز نے بیرون ممالک سے روئی کی تقریبا 30 لاکھ گانٹھوں کے درآمدی معاہدے کرلئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس سال مقامی ملز کی ضرورت پوری کرنے کی غرض سے روئی کی 60 تا 70 لاکھ گانٹھیں درآمد کرنی پڑے گی جس کی مد میں تقریبا 4 ارب ڈالر کا زر مبادلہ درکار ہوگا جو پہلے ہی زبوں حالی کا شکار ملک کی معیشت کو زبردست جھٹکا لگے گا۔صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ فی من 8450 تا 9400 روپے پھٹی کا بھاؤ کوالٹی کے حساب سے فی 40 کلو 3000 تا 4200 روپے رہا بنولہ کا بھاؤ فی من 1600 تا 1850 روپے رہا صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 8800 تا 9600 روپے رہا پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 3500 تا 4600 روپے رہا جبکہ صوبہ بلوچستان میں روئی کا بھاؤ فی من 8500 تا 9200 روپے رہا پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 4000 تا 5000 روپے رہا۔

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 50 روپے کی کمی کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 9350 روپے کے بھاؤ پر بند کیا۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں روئی کے بھاؤ میں ملا جلا رجحان رہا COVID-19 کی ویکسین کی خبروں کی وجہ سے بھاؤ میں اتار چڑھا رہا۔ نیویارک کاٹن کے دسمبر وعدے کا بھاؤ بڑھ کر فی پانڈ 71 امریکن سینٹ ہوکر 68.50 امریکن سینٹ ہوکر دوبارہ 71.50 امریکن سینٹ ہوگیا ہفتہ کے دوران اس میں اتار چڑھا ہوتا رہا۔

نیویارک کاٹن کے ہفتہ وار برآمدی رپورٹ میں گزشتہ ہفتہ کے نسبت 45 فیصد کی کمی ہوئی اس ہفتہ بھی ویت نام کے بعد پاکستان روئی کا بڑا خریدار رہا۔ دوسری جانب برازیل، ارجنٹینا اور وسطی ایشیا کی کاٹن مارکیٹوں میں مجموعی طورپر استحکام رہا جبکہ بھارت میں روئی کے بھاؤ میں خاطر خواہ اضافہ رہا جس کی وجہ ذرائع کے مطابق بھارت کی ٹیکسٹائل ملز کی روئی کی خریداری میں اضافہ ہوا ہے دوسری جانب کاٹن کارپوریشن آف انڈیا (CCI) نے روئی کی خریداری جاری رکھی ہوئی ہے ذرائع کے مطابق بھارت میں نئی سیزن کی کپاس کی آمد شروع ہوچکی ہے تاحال روئی کی تقریبا 45 لاکھ گانٹھوں کی آمد ہوچکی ہے جس میں CCI نے تقریبا 15 تا 16 لاکھ گانٹھیں خریدی ہیں جبکہ CCI کے پاس پہلے سے ہی روئی کی تقریبا 50 لاکھ گانٹھوں کا اسٹاک موجود ہے۔

بھارت کے کاٹن جنرز کا کہنا ہے کہ حکومت جنرز اور کاشتکاروں کو بہت سپورٹ کرتی ہے جس کے باعث جنرز اور کاشتکاروں کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے اور وافر تعداد میں روئی کی پیداوار اور جننگ کرتے ہیں دوسری جانب حکومت کپاس کے کاشتکاروں کو بھی خاطر خواہ مراعات دیتی ہے۔ جبکہ پاکستان میں کپاس کے کاشتکاروں اور جنرز کا کوئی پرسانے حال نہیں جس کے باعث کپاس کی پیداوار میں ہر سال تواتر سے کمی ہوتی جارہی ہے۔

پاکستان کے کپاس سے منسلک کاشتکار متواتر نقصان کی وجہ سے کپاس کی پیداوار میں کم دلچسپی لے رہے ہیں اس سال ملک میں کپاس کی کل پیداوار 55 تا 60 لاکھ گانٹھیں ہونے کا عندیہ دیا جارہا ہے پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر جیسومل لیمانی نے بتایا کہ اس سال ملک میں روئی کی پیداوار بمشکل 55 لاکھ گانٹھوں کی ہوگی گو کہ ڈاکٹر جیسومل لیمانی نے PCGA کی چیئرمین شپ سنبھالی ہے اس وقت سے ملک میں کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے تگ ودو کر رہے ہیں کپاس کی فصل سے منسلک اداروں کے سربراہان سے ملاقات کر رہے ہیں ان کی کاوشوں سے اسلام آباد میں کاٹن سیمینار منعقد کیا گیا جس میں وفاقی وزیر سید فخر امام اور وفاقی مشیر تجارت عبدالرزاق داد نے بھی شرکت کی تھی علاوہ ازیں انہوں نے وفاقی وزیر صنعت حماد اظہر اور دیگر سربراہان سے ملاقات کی اور PCGA کے مسائل اور کپاس کی فصل بڑھانے کے لئے مفید مشورے دئے۔

ڈاکٹر جیسومل نے نسیم عثمان کو بتایا کہ کپاس کے پیداواری رقبے میں مسلسل کمی ہوتی جارہی ہیں ان کے کہنے کے مطابق کپاس کا پیداواری رقبہ تقریبا 46 لاکھ ایکڑ ہوگیا ہے 31 لاکھ ایکڑ صوبہ پنجاب اور 15 لاکھ ایکڑ صوبہ سندھ و بلوچستان جبکہ کپاس کی موجودہ سیزن شروع ہوئی اس وقت صوبہ پنجاب کے سابق وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال دعویٰ کررہے تھے کہ صوبہ پنجاب میں کپاس کی فصل 46 لاکھ ایکڑ رقبہ پر کاشت کی گئی ہے صوبہ پنجاب میں روئی کی پیداوار 85 لاکھ گانٹھوں کی متوقع ہے جبکہ صوبہ پنجاب میں صرف 31 لاکھ ایکڑ رقبہ پر کپاس کی فصل بوئی گئی تھی پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی 15 نومبر تک کی پیداواری رپورٹ کے مطابق اس عرصے تک صوبہ پنجاب میں صرف 21 لاکھ 50 ہزار گانٹھوں کی پیداوار ہوسکی ہے جو سیزن کے اختتام تک بمشکل 32 لاکھ گانٹھوں کی ہوسکے گی اس سے واضع ہوجاتا ہے کہ وزیر موصوف کو کپاس کی بوائی کے رقبہ کا کوئی ادراک نہیں تھا متعلقہ اداروں نے ان کو غلط رپورٹ دی تھی ڈاکٹر جیسومل لیمانی نے کہا کہ کپاس کی فصل بڑھانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی حاصل کی جائے معیاری بیج اور معیاری ادویات حاصل کی جائیں اور کپاس کے کاشتکاروں کو ضروری مراعات دی جائیں اور دیگر اجناس کی طرح کپاس کی امدادی قیمت Support Price مقرر کی جانی چاہئے۔

Your Thoughts and Comments