غریب ممالک کرونا وائرس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں: میاں زاہد حسین

امیر ممالک کی غیر ذمہ داری سے عالمی بحران جنم لے سکتا ہے، ترقی پذیر ممالک دیوالیہ ہوئے تو مغربی ممالک بھی نہیں بچیں گے

غریب ممالک کرونا وائرس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں: میاں زاہد حسین
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 نومبر2020ء) ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ غریب ممالک کرونا وائرس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں جبکہ اس سلسلے میں امیر ممالک غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ تمام ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی واپسی فوری طور پر منجمد کی جائے اور جن کی حالت زیادہ خراب ہے انکے قرضے معاف کئے جائیں ورنہ ایک خوفناک عالمی بحران جنم لے سکتا ہے۔

میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت درجنوں ترقی پذیر ممالک کی معیشت کرونا وائرس کی دوسری لہر کی صورت میں لاک ڈاؤن کی متحمل نہیں ہو سکتی ہیں اور اگر ایسا ہوا تو بہت سے ممالک دیوالیہ ہو جائیں گے جس سے نیا عالمی بحران جنم لے گا۔

(جاری ہے)

اگر تیسری دنیا کے حالات بگڑتے ہیں اور مغربی ممالک خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے رہے توانکی بنائی ہوئی اشیاء کون خریدے گااور انکے کارخانوں کے لئے خام مال کہاں سے آئے گا۔

مغربی ممالک تیسری دنیا کی مدد انسانی ہمدردی کے تحت نہ کرے بلکہ اپنے مفاد میں ان معیشتوں کو دوبارہ کھڑا کرنے میں مدد دے تاکہ عالمی معاشی نظام دوبارہ متوازن ہو سکے۔وزیر اعظم عمران خان نے مختلف بین الاقوامی فورمز پر مغربی ممالک سے کہا ہے کہ غریب ممالک کو ریلیف دیا جائے جسے ہلکا نہ لیا جائے کیونکہ یہی دنیا کو موجودہ مسائل سے بچانے کا واحد حل ہے۔

آئی ایم ایف نے بھی امیر ممالک سے کہا ہے کہ وہ غریب ممالک کے قرضوں کی ادائیگی کو موخر کریں اور جہاں ممکن ہو ان قرضوں کو معاف کر دیا جائے تاکہ صورتحال بہتر ہو سکے۔امیر ممالک بھی وائرس سے متاثر ہوئے ہیں مگر انکی اقتصادی حالت اس جھٹکے کو برداشت کر سکتی ہے تاہم غریب ممالک کے پاس ایسا کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہG20 ممالک کی جانب سے46ممالک کے قرضوں کی ادائیگی میں 6 ماہ کی توسیع مزاق ہے۔اسکی معیاد کم از کم دو سال ہونی چاہئے تاکہ انکی معیشت بہتر ہو سکے۔

Your Thoughts and Comments