چھوٹے تاجروں کی مشکلات کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔ میاں ناصر حیات مگوں صدر ایف پی سی سی آئی

چھوٹے تاجروں کی مشکلات کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔ میاں ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 جنوری2021ء)چیئرمین عتیق میر کی سربراہی میں آل کراچی تاجر اتحاد (اے کے ٹی آئی) کے وفد نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کا دورہ کیا اور میاں ناصر حیات مگوں نومنتخب صدر ایف پی سی سی آئی کو ان کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔وفد نے ٹیکسوں کے مسائل، لاک ڈاؤن کی صورتحال، انسداد تجاوزات مہم،حکومت کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی ،شہری سیلاب کے دوران ہنگامی صورتحال اور آگ لگنیکے واقعات کے حوالے سے اپنے تحفظات بیان کیے۔

میاں ناصر حیات مگوں صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ بدقسمتی سیاس میگا پولیٹن شہر میں چھوٹی اور درمیانی صنعتوں، گھریلو صنعتوں، اور چھوٹے تاجروں کی تنظیموں کی کمی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مارکیٹوں اور کاروباری برادری کے مسائل حل کرنے کے لییمرحلہ وار اقدامات کا مشورہ دیا کہ ایک متعین علاقے سے کام شروع کیا جائے اور خدمت کی بہترین مثال قائم کی جائے۔

پھر پورے شہر میں آزمائے ہوئے کامیاب طریقہ کار سے کام کیا جائے۔ انہوں نے ایف پی سی سی آئی کی جانب سے تمام کاروباری برادری کی بلا تفریق خدمت کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے وفد کو ایک قابل عمل تحریری مسودے کی تیاری کی تجویز پیش کی تاکہ ایک لائحہ عمل تشکیل دیا جاسکے۔ملاقات میں ایف پی سی سی آئی کو تجارت اور صنعت کا ایک اہم ادارہ ہونے کی حیثیت سے کراچی کی مارکیٹوں اور چھوٹے کاروباری اداروں کو مستحکم کرنے میں مدد فراہم کرنیدرخواست کی گئی۔

ایف پی سی سی آئی کے زیر سایہ مسائل کا جائزہ لینے اور ان کے حل کے لیے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ اگر ایف بی آر چھوٹے کاروباری شعبے کے ٹیکس دہندگان کے لیے مراعات کا اعلان کرے اور ٹیکس وصولی کے لیے تاجر دوست طریقے اپنائے تو چھوٹے تاجر اپنے حقوق کے حصول کے لیے احتجاج سے گریز کرنے پر تیار ہیں۔میاں ناصر حیات مگوں صدر ایف پی سی سی آئی نے وفد کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مسائل کے تناظر میں ایک بجٹ تجویز پیپر تیار کریں ،ایف پی سی سی آئی کی جانب سے وزارت خزانہ، حکومت پاکستان کو پیش کردہ بجٹ سفارشات میں اسے شامل کیا جاسکتا ہے۔ ملاقات میں اطہر سلطان چاؤلہ ،حنیف لاکھانی نائب صدور ایف پی سی سی آئی اور اے کے ٹی آئی کے ممبران نے شرکت کی۔

Your Thoughts and Comments