ڈیم بنا کر عوام اور معیشت کو بچانا ممکن ہے مگر توجہ نہیں دی جا رہی ہے: میاں زاہد حسین

ضروری منصوبے نظر انداز،غیر ضروری پروجیکٹس کیلئے قرضے لیے جاتے ہیں، آبادی اضافہ کے ساتھ پانی کی کمی معاشی تباہی کا سبب بنے گی

ڈیم بنا کر عوام اور معیشت کو بچانا ممکن ہے مگر توجہ نہیں دی جا رہی ہے: ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 فروری2021ء) ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملکی آبادی میں تیز رفتاری سے اضافہ کے ساتھ پانی میں مسلسل کمی معاشی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔آبادی میں اضافہ کو روکنااور اس کے ساتھ ساتھ ڈیم بنا کر ملکی زراعت اور صنعت کو بچانا ممکن ہے جسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

قومی اہمیت کے اس اہم ترین معاملہ پر حکومت اور اپوزیشن کو ایک ہونا پڑے گا۔میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اپنے ابتدائی ایام میں ڈیموں کی تعمیر کے بارے میں سنجیدہ نظر آتی تھی مگر اب ایسا نہیں لگ رہا ہے۔

(جاری ہے)

پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی مسلسل کم ہو رہی ہے اور 1951سے اب تک اس میں ایک ہزار کیوبک میٹر سے زیادہ کی کمی واقع ہو چکی ہے۔

دیگر ممالک اوسطاًاپنے دریاؤں کا چالیس فیصدپانی ذخیرہ کر رہے ہیں جبکہ پاکستان بمشکل دس فیصد پانی زخیرہ کرنے کی گنجائش رکھتا ہے ۔امریکہ نو سو دن کی ضروریات کا پانی محفوظ رکھتا ہے، مصر سات سو دن کی ضروریات کا پانی محفوظ رکھتا ہے، بھارت ایک سو ستر دن جبکہ پاکستان موجودہ انفراسٹرکچر کے ساتھ تیس دن کی ضروریات سے زیادہ کا پانی جمع نہیں کر سکتا۔

انھوں نے کہا کہ ڈیموں کی تعمیر صبر آزما کام ہے اور یہ شہری منصوبوں کی طرح عوام کو نظر بھی نہیں آتے اس لئے گزشتہ کئی دہائیوں سے تمام حکومتیں انھیں نظر انداز کر رہی ہیں جبکہ غیر ضروری منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے بلکہ ان کے لئے بھاری سود پر قرضے بھی لئے جاتے ہیں۔ملکی سلامتی کے اس معاملہ کو مذید نظر انداز کرنا خودکشی ہو گی اس لئے حکومت اور اپوزیشن اس معاملہ پر ایک ہو کر یکساں موقف اختیار کریں اور اس پر سیاست نہ کرنے کا عہد کریں ورنہ پانی کی کمی سے زراعت مذید بدحال ہو جائے گی اور زرعی ملک کو اشیائے خورد و نوش مستقل بنیادوں پر درآمدکرنا پڑیں گی اور مذید غربت وبے روزگار ی کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

Your Thoughts and Comments