مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران کاروبار کا حجم بہت ہی کم رہا

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ فی من 11300 روپے کے بھا ؤپر مستحکم رکھا

مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران کاروبار کا حجم بہت ہی کم رہا
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مئی2021ء)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران ٹیکسٹائل واسپنگ ملزکی جانب سے روئی کی خریداری میں عدم دلچسپی اور جنرز کے پاس صرف 40 لاکھ گانٹھوں کا اسٹاک رہ جانے کی وجہ سے کاروبار کا حجم بہت ہی کم رہا کوئی اکا دکا سودا ہو جاتا ہے باقی کاروبار بالکل کم ہوگیا ہے۔ بہرحال روئی کے بھاؤ میں استحکام رہا زیادہ تر لوگ اب آئندہ سیزن کی کپاس کے لیے کوششیں کر رہے ہیں پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے بھی اس کی اویرنس دی جا رہی ہے اور حکومتی ادارے بھی سرگرم عمل ہے صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ فی من 10200 تا 10500 روپے جبکہ صوبہ پنجاب میں روئی کا بھا أفی من 11000 روپے 11300 روپے ہے کوئی ادھار کا کام ہوجائے یا بلوچی کاٹن کا تو اس کا بھا ؤ12500 تا 13000 روپے ہوجاتا ہے۔

(جاری ہے)

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ فی من 11300 روپے کے بھا ؤپر مستحکم رکھا۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں اتارچڑھاؤ کا رجحان نظر آرہا ہے نیویارک کاٹن مارکیٹ میں روئی کے وعدے کا بھاؤ مستحکم کہا جا سکتا ہے بھا ؤکبھی اوپر چلا جاتا ہے اور کبھی نیچے آجاتا ہے اس طرح مجموعی طور پر مستحکم ہے USDA کی ہفتہ وار برآمدی رپورٹ میں پچھلے ہفتے کی نسبت 17 فیصد برآمد کم ہوئی اس دفعہ صرف 63 ہزار 700 گانٹھوں کے برآمدی سودے ہوئے ہیں جس میں پاکستان 16 ہزار 200 گانٹھیں لے کر سرفہرست رہا اور بنگلہ دیش 15 ہزار 800 گانٹھیں لے کر دوسرے نمبر پر رہا بھارت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وہاں کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے کئی جگہ لوک ڈاؤن ہونے کے سبب روئی کی کھپت میں 8 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور ہپت گٹھ کر 3 کروڑ 3 لاکھ گانٹھوں کی رہ گئی ہے گزشتہ سال بھارت میں روئی کی ہپت 3 کروڑ 30 لاکھ گانٹھوں کی تھی بھارت میں سینٹرل ٹیکسٹائل کمیٹی برائے پروڈکشن اینڈ کنزمشن نے بتایا ہے کہ اس سال کاٹن کی ایکسپورٹ بھی کم ہوگی گزشتہ سال بھارت میں کپاس کا کلوزنگ اسٹاک 98 لاکھ گانٹھوں کا تھا اس دفعہ ستمبر 2021 کو بڑھ کر 1 کروڑ 18 لاکھ گانٹھوں کا ہوجائے گا اس سال بھارت میں روئی کی پیداوار جو گزشتہ سال تین کروڑ 71 لاکھ گانٹھوں کی تھی وہ 11 لاکھ گانٹھیں کم ہوکر تین لاکھ 60 ہزار گانٹھیں رہنے کی توقع ہے اس سال بھارت میں کسانوں کی طویل ہرتال کی وجہ سے کپاس کی بوائی اندازے سے کم ہوئی ہے اس وجہ سے بھارت میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے بھا میں تقریبا 700 فی کینڈی اضافہ دیکھا گیا۔

برازیل وسطی ایشیا اور ارجنٹینا وغیرہ میں روئی کا بھا مستحکم رہا حالانکہ برازیل وغیرہ میں نئی فصل کی روئی آنا شروع ہو جائے گی۔علاوہ ازیں اس سال بین الاقوامی کاٹن مارکیٹ میں خصوصی طور پر امریکہ میں روئی کے بھا گزشتہ سال کے نسبت زیادہ ہونے کی وجہ سے مقامی ٹیکسٹائل ملز زیادہ مقدار میں روئی امپورٹ کرنے میں محتاط رہیں گے۔ملک میں اس سال روئی کی بوائی زریں سندھ میں خاصی ہو رہی ہے اور صوبہ پنجاب میں بھی کچھ علاقوں میں کپاس کی بوائی شروع ہوچکی ہے سندھ کیذریں علاقوں سے پھٹی مئی کے آخر میں آنا شروع ہو جائے گی اور ایک آدھ سانگڑ کی فیکٹری ہوسکتا ہے مئی کے آخر میں یا جون کے شروع میں جزوی طور پر چلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

حکومت کی طرف سے اس سال جعلی بیج اور ناقص ادویات کے خلاف مہم چلائی ہوئی ہے اور کئی مافیا کو گرفتار بھی کیا گیا ہے اگر یہ حکومت کی کوشش جاری رہی تو ہو سکتا ہے کہ اگلی سیزن کی کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہو سکے گا۔پی سی جی اے کی جانب سے کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لئے ہر ایک علاقوں میں اور جننگ فیکٹریوں میں ان علاقوں کے کپاس کے کاشتکاروں کی میٹنگیں کی جا رہی ہے انہیں اویرنس دی جا رہی ہے اور انہیں ترغیب دی جارہی ہے کہ اس سال زیادہ سے زیادہ کپاس کی بوائی کی جائے تاکہ ملک میں کپاس کی پیداوار میں کچھ حد تک اضافہ لایا جا سکے یہ ٹاسک فورس جو PCGA نے بنائی ہوئی ہے ان کے ساتھ سبسڈی دینے کیلئے زریں بینک کے افسر بھی جارہے ہیں اور کسان کارڈ دینے کیلئے ان کی معاونت کررہے ہیں۔

Your Thoughts and Comments