لاک ڈائون کے دوران ڈیری سیکٹر کو 24 گھنٹے کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے،شاکرگجر

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 08 مئی2021ء) صدر ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان(ڈی سی ایف ای) محمد شاکر عمر گجرنے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کی ہے کہ لاک ڈائون کے دوران تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ ڈیری سیکٹر کو 24 گھنٹے کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔شاکر عمر گجر نے کہا کہ کوویڈ 19 کی جاری وبائی بیماری کے سبب ہم ڈیری فارمرز اور خوردہ فروش بھی اپنے ہم وطن شہریوں سمیت بچوں اور بوڑھے شہریوں کو تازہ دودھ کے ذریعہ مطلوبہ غزائی ضروریات فراہم کرنے کے لئے 24گھنٹے کام کر رہے ہیں،تاہم ہمیں ابھی بھی محدود وقت کی وجہ سے ضروری طلب اور رسد کے آرڈر کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دودھ کی دکانوں اور آمدورفت کے لئے وقت کو محدود کرنا کسانوں کے لئے ایک بہت بڑی پریشانی پیدا کررہا ہے لہذا یہ کاروبار گر سکتا ہے ، پہلے بھی ہماری ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو ا قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے جانے کی اجازت نہیں دی تھی اور اسی وجہ سے بھاری مقدار میںدودھ خراب ہوا تھا ، دودھ کی زندگی 2 گھنٹے کی ہوتی ہے،فارم سے موصول ہونے کے بعد 3 گھنٹے ہوتے ہیںاس لئے ہم وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے درخواست کرتے ہیں کہ جب بھی آپ کوئی نوٹیفیکیشن جاری کریں تواس سے ہمیں مستثنیٰ رکھیں تاکہ ہم اپنی خدمات جاری رکھ سکیں۔

(جاری ہے)

شاکر عمرگجر نے کہا کہ دودھ کے کاشتکاروں اور اسے سے منسلک انڈسٹری کو 24 گھنٹے کام کرنے کی اجازت دیں تاکہ اس صنعت کو بچایا جاسکے اور یہ بھی وقت محدود ہے اور دودھ کی فراہمی اور پیداوار میں بھی رکاوٹ پیدا ہوگی۔انہوں نے درخواست کی کہ دودھ کی دکانوں ، دودھ کے ٹرانسپورٹرز ، کسانوں ، دودھ فروش ، گوشت کے کاروبار رکھنے والوں ، فیڈ فراہم کرنے والوں ، میڈیکل شاپس اور ویٹرنری ڈاکٹروں کو بغیر کسی پابندی کے خدمات انجام دینے کی اجازت دی جائے۔شاکر عمر گجر نے کہا کہ کوویڈ 19 جیسی مہلک وبائی بیماری سے بچائو کیلئے حکومت سندھ کے اقدامات لائق تحسین ہیں ۔

Your Thoughts and Comments