اسٹیٹ بینک نے کرونا وائرس سے ڈوبتی معیشت کو سہارا دیا ہے: میاں زاہد حسین

حکومتی اقدامات سے معیشت نے ترقی کا سفر شروع کر دیا ہے،ہزاروں کمپنیاں، لاکھوں روزگار بچا لئے گئے

اسٹیٹ بینک نے کرونا وائرس سے ڈوبتی معیشت کو سہارا دیا ہے: میاں زاہد ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2021ء)  نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ مرکزی بینک نے کرونا وائرس سے ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دیا ہے جس کا کریڈٹ اسٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر کو جاتا ہے۔ امید ہے کہ مرکزی بینک معاشی ترقی کے لئے مذید اقدامات کرے گا تاکہ حالات مذید بہتر ہوں اور شرح نمو اگلے مالی سال پانچ فیصد کی سطح تک پہنچ سکے۔

میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وباء کے دوران حکومت اور مرکزی بینک کی جانب سے عوام اور کاروباری برادری کے لئے اٹھائے گئے اقدامات اور کئی سو ارب روپے کے ریلیف کی وجہ سے ہی معیشت نے استحکام کے بجائے ترقی کا سفر شروع کیا جبکہ سفری پابندیوں، لاک ڈاؤن اور غیر ممالک میں کرونا وائرس کے زبردست پھیلاؤ سمیت کئی معاملات کی وجہ سے پاکستان کو ترسیلات زر میں حیرت انگیز اضافہ ہوا جس سے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں چلا گیا اسی وجہ سے حکومت کو خاطر خواہ مدد ملی۔

(جاری ہے)

وباء میں اسٹیٹ بینک نے ڈھائی ماہ کے انتظار کے بعد شرح سود کو 13.25 فیصد سے کم کر کے سات فیصد کر دیا، قرضوں میں رعایت دی گئی جبکہ ٹیمپریری اکنامک ری فنانس فیصلیٹی اسکیم کا آغاز کیا گیا جس کے تحت 300 ارب روپے کے قرضے سستے مارک اپ پر صنعتکاروں کو دیے گئے جس نے معاشی سرگرمیوں کو چھ ماہ کے اندر بحال کر دیا۔ مرکزی بینک کے اقدامات کی وجہ سے 3331 کمپنیوں نے اٹھارہ لاکھ ملازمین کو تنخواہیں ادا کیں جس نے بہت سے لوگوں کو بے روزگاری سے بچا لیا تاہم ایس ایم ایز کا بڑا حصہ رجسٹرڈ نہ ہونے کی وجہ سے ان سہولیات سے محروم رہا۔

میاں زاہد حسین نے مذید کہا کہ مرکزی بینک کی جانب سے پلانٹ اور مشینری کی درآمد پر بھی رعایت دی گئی جس سے برآمدکنندگان اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مدد ملی۔ اسٹیٹ بینک کی پالیسیوں کی وجہ سے قرضوں کی رفتار میں وہ اضافہ نہیں ہوا جو متوقع تھا یا جو دیگر ممالک نے وباء سے نمٹنے کے لئے حاصل کئے تھے۔ کاروباری برادری کو امید ہے کہ حکومت اور مرکزی بینک قرضوں، خسارے، اخراجات اور دیگر اہم امور پر مل کر کام کریں گے تاکہ معیشت کو مشکلات سے نکالا جا سکے۔

Your Thoughts and Comments