سرحد چیمبر اور بورڈ آف انوسٹمنٹ کاخیبر پختونخوا میں کاروبار میں آسانیاں پیداکرنے ،تاجر برادری کے مسائل حل کرنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کا فیصلہ

سرحد چیمبر اور بورڈ آف انوسٹمنٹ کاخیبر پختونخوا میں کاروبار میں آسانیاں ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 جون2021ء)سرحد چیمبر آف کامرس،ْ اینڈ انڈسٹری اور بورڈ آف انوسٹمنٹ اسلام آبادنے خیبر پختونخوا بالخصوص نئے ضم شدہ و قبائلی اضلاع میں کاروبار میں آسانیاں پیداکرنے اور تاجر برادری کے مسائل کو ون ونڈو آپریشن سروسز کے تحت حل کرنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس حوالے سے ایک جائنٹ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا جو کہ حکومتی اداروں اور بزنس کمیونٹی سمیت متعلقہ سٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے فوری دیرپا حل کیلئے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا تاکہ صوبہ بھر میں حکومت اور وزیراعظم پاکستان کے ویژن کے مطابق بزنس کمیونٹی کی مشکلات کو دور کرکے کاروبار میں آسانیاں پیدا کی جاسکے۔

یہ فیصلہ گذشتہ روز سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیر باز بلور کی زیر صدارت ایگزیکٹو ڈائریکٹرجنرل / ایڈیشنل سیکرٹری بورڈ آف انوسٹمنٹ اسلام آبادمکرم جاہ انصاری اور خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے سی ای او حسان دائود بٹ کے ساتھ ہونیوالے اجلاس میں کیاگیا ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر انجینئر منظور الٰہی ،ْ سابق صدر حاجی محمد افضل ،ْ سابق سینئر نائب صدر شاہد حسین ،ْسابق نائب صدور ملک نیاز محمد اعوان ،ْ حاجی عبدالجلیل ،ْ عابد اللہ یوسفزئی ،ْ ایگزیکٹو ممبران ظہور خان ،ْ وقار احمد اور شمس الرحیم ،ْ صدر گل ،ْ فیض رسول ،ْ سمیڈا کے پراونشل چیف راشد امان ،ْ بورڈ آف انوسٹمنٹ اسلام آباد اور خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے اعلیٰ افسران ،ْ تاجر ،ْ صنعتکار اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے نمائندے کثیر تعداد میں بھی موجود تھے۔

سرحد چیمبر کے صدر شیر باز بلور نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے سرمایہ کاری اور کاروبار کے لحاظ سے کافی پرکشش اور موزوں جگہ ہے تاہم اس صوبہ میں کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے حکومتی اقدامات ناکافی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں سرمایہ کاری کے فروغ ،ْ کاروبار اور صنعتی ترقی کے لئے حکومتی اداروں اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے تعاون سے سرحد چیمبر اپنی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بزنس کمیونٹی کا ملکی معیشت کی ترقی واستحکام میں کلیدی کردار ہے اور کاروباری طبقہ کو مراعات اور کاروبار کرنے کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا دہشت گردی ،ْ انتہا پسندی کے بعد کورونا سے متاثرہ صوبہ ہے جس کے آئینی حقوق کو ہر ادوار میں سلب کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو کہ اس صوبہ کی بزنس کمیونٹی اور عوام کے سراسر زیادتی ہے ۔

انہوں نے خیبر پختونخوا کے معاشی و اقتصادی ترقی بالخصوص ملکی معیشت کی بہتری کے لئے نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں سرمایہ کاری ،ْ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقہ کو خصوصی مراعات کی فراہمی وقت کی اہم ضروت ہے۔ بورڈ آف انوسٹمنٹ اسلام آباد کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل /ایڈیشنل سیکرٹری مکرم جاہ انصاری نے کہا کہ حکومت ملک بھر میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ویژن کے مطابق کاروبار میاں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ دہشت گردی ،ْ انتہا پسندی اور کورونا وائرس لاک ڈائون میں خیبر پختونخوا کی بزنس کمیونٹی ،ْ پولیس فورسز اور عوام کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں موجودہ حالات کے تناظر میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لئے کافی سازگار جگہ ہے تاہم پیچیدہ قوانین اور مشکل طریقہ کار کے باعث بزنس کمیونٹی کو کاروبار کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ بورڈ آف انوسٹمنٹ اسلام آباد کے پی بی او آئی ٹی کے ساتھ مل کرخیبرپختونخوا میں ایک پروگرام کا آغاز کرنے جا رہا ہے جس کے تحت کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کی غرض سے ون ونڈو آپریشن کے تحت بزنس کمیونٹی کے مشکلات کا فوری ازالہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے اس موقع پر یقین دہانی کروائی ہے کہ تاجر برادری کے مسائل کو متعلقہ اداروں اور انتظامیہ کے ذریعے فوری حل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی ۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مالیاتی بجٹ 2021-22ء میں چھوٹے تاجروں کے لئے نئے ٹیکسیشن نظام متعارف کروائے ہیں جس کے تحت ایک صفحہ کے ذریعے ریٹرن فائل کرنے سمیت چھوٹے کاروباری طبقہ کے لئے آسان شرائط پر کریڈٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وی بک نظام کو بدل کر پاکستان سنگل ونڈو سنٹم متعارف کروایا جا رہا ہے جس کے ذریعے امپورٹ اور ایکسپورٹ میں درپیش مسائل کو حل کرنے کے ساتھ برآمدات اور درآمدات میں تیزی لانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ حکومتی اقدام کاروبار میں آسانی پیدا کرنے میں یہ ایک اہم قدم ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایکسپورٹ کے لئے ای اور آئی فارم کی جگہ سنگل ونڈو سسٹم بھی متعارف کروایا جا رہا ہے جس کے ذریعے برآمدات اور درآمدات میں بہتری لائی جائے گی ۔ کے پی بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے CEO حسان دائود بٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے سمیت صنعتی ترقی اور کاروباری طبقہ کے لئے اعلان کردہ مراعات کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں اجلاس کے شرکاء کو تفصیلی آگاہ کیا ۔

اس سے قبل سرحد چیمبر کے سابق صدر حاجی محمد افضل ،ْ سینئر نائب صدر انجینئر منظور الٰہی ،ْ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین ظہور خان ،ْ وقار احمد اور آفتاب حیات ،ْ سمیڈا پراونشل چیف راشد امان ارو دیگر نے بھی خطاب کرتے ہوئے حکومت سے خیبر پختونخوا میں کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے اور چھوٹے تاجروں کو خصوصی مراعات سمیت نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں سرمایہ کاری کے فروغ اور افغانستان اور وسطی ایشیاء ممالک کے ساتھ تجارت اور ایکسپورٹ کو بڑھانے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے۔

Your Thoughts and Comments