مقامی کاٹن مارکیٹ میں عید الاضحی کی طویل تعطیلات کے بعد کاروبار صرف تین روز پر محیط رہا

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ فی من 12700 روپے کے بھاؤ پر مستحکم رکھا

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2021ء)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران عید الاضحی کی طویل تعطیلات کے بعد کاروبار صرف تین روز پر محیط رہا۔ اس میں بھی جمعہ کے روز عید ملن ہوتی رہی جب کہ ہفتہ کے روز کاروباری حجم عام طور پر کم ہوتا ہے بہر حال کاروبار کے تین روز معمولی کاروبار ہوا ہے جس کے دوران روئی کے بھاؤ میں مجموعی طور پر استحکام پایا گیا۔

کچھ جننگ فیکٹریاں چلی جبکہ بیشتر فیکٹریاں جزوی طور پر چلی یا بند رہی۔ کاروبار پیر کے روز سے شروع ہوسکے گا۔ ٹیکسٹائل و اسپنگ ملز کو روئی کی ضرورت ہونے کے سبب کاروباری حجم بڑھنے کی توقع ہے پنجاب میں پھٹی کے رسد میں اضافہ ہونے کی صورت میں کاروبار بڑھ جائے گا۔ پنجاب کی ٹیکسٹائل و اسپنگ ملز سندھ کی بجائے پنجاب سے روئی کی خریداری بڑھا دیں گے جس کے باعث سندھ میں روئی کا بھا مناسب رہنے کی توقع ہے گو کہ بارشوں کے سلسلے کی بھی خبریں آ رہی ہے اگر مناسب بارش رہی تو فصل کے لئے بہتر رہے گی ورنہ مشکلات ہو سکتی ہے۔

(جاری ہے)

بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں مجموعی طور پر بہتری دیکھی گئی روپے کی نسبت ڈالر کے بھاؤ میں تیزی کی وجہ سے ٹیکسٹائل و اسپنگ ملز بیرون ممالک سے روئی کی بکنگ کروانے کے متعلق محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں ڈالر مزید مضبوط ہونے کی بھی پیش گوئی کی جا رہی ہے گو کہ ڈالر کی مضبوطی کی وجہ سے برآمد میں فائدہ بھی ہو سکے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ دنوں میں ٹیکسٹائل کی مصنوعات کی مانگ میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں Covid-19 کی نئی لہر زور پکڑ رہی ہے۔

خصوصی طور پر بنگلہ دیش میں Covid-19 کی نئی لہر کی شدت میں اضافہ ہونے کے سبب وہاں لاک ڈاؤن میں سختی بڑھا دی گئی ہے۔ بیرون ملک کے خریداروں نے وہاں سے درآمد کم کر دی ہے۔ ایسی ہی صورتحال بھارت کی ہے جس کی وجہ سے بیرونی درآمدکنندگان پاکستان سے ٹیکسٹائل کی مصنوعات درآمد کر رہے ہیں جس کے سبب مقامی ٹیکسٹائل مصنوعات اور کاٹن یارن کے مانگ اور بھا میں اضافہ کا رجحان برقرار رہنے کی توقع ہے۔

مقامی کاٹن مارکیٹ میں کاروباری حجم کم رہا بہرحال صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ کوالٹی کے حساب سے فی من 12400 تا 12900 روپے رہا پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 4500 تا 5300 روپے رہا بنولہ کا بھاؤ فی من 1700 تا 1800 روپے رہا جبکہ صوبہ پنجاب میں روئی کا بھا ؤفی من 13200 تا 13500 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 5200 تا 6000 روپے رہا بنولہ کا بھاؤ فی من 1800 تا 1900 روپے رہا صوبہ بلوچستان میں روئی کا بھاؤ فی من 12900 تا 13000 روپے رہا پھٹی کا بھا ؤفی 40 کلو 5000 تا 5300 روپے رہا بنولہ کا بھاؤ فی من 1700 تا 1900 روپے رہا۔

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ فی من 12700 روپے کے بھاؤ پر مستحکم رکھا۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں روئی کے بھا ؤمیں مجموعی طورپر تیزی کا عنصر رہا۔ نیویارک کاٹن کے وعدے کے بھا میں تیزی کا عنصر رہا وعدے کا بھا ؤفی پانڈ 89 تا 90 امریکن سینٹ رہا۔ USDA کی ہفتہ وار برآمدی رپورٹ کے مطابق 21-2020 کی برآمد میں 16 فیصد اور 22-2021 کی برآمد میں 36 فیصد اضافہ رہا۔

برازیل وسطی ایشیا اور افریقہ کی روئی میں بھی مجموعی طور پر بہتری دیکھی گئی جبکہ بھارت میں روئی کے بھاؤ میں نمایاں اضافہ ہوا روئی کا بھاؤ فی کینڈی 356 کلو بڑھ کر 59000 روپے کی ریکارڈ اونچی سطح پر پہنچ گیا جبکہ CCI نے بھی روئی کے بھا میں فی کینڈی مزید 400 تا 500 روپے کا اضافہ کردیا بھارت احمد آباد کے کاٹن بروکر اجے دلال نے نسیم عثمان کو بتایا کہ CCI کاٹن کارپوریشن آف انڈیا کی روئی کا بھا مارکیٹ ریٹ سے تقریبا 500 تا 600 روپے کم ہے بھارت میں روئی کا بھا مضبوط ہونے کی ایک وجہ بنگلہ دیش کو 10 لاکھ گانٹھیں برآمد کرنا بھی ہے۔

Your Thoughts and Comments