تعمیراتی صنعت کیلئے اعلان کردہ ایمنسٹی اسکیم میں توسیع کا مطالبہ

6 ماہ کی توسیع سے تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری ایک ہزار ارب سے بڑھ کر 2 ہزار ارب تک پہنچ سکتی ہے‘ چیئرمین فیاض الیاس

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 31 جولائی2021ء)ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز نے تعمیراتی صنعت کیلئے اعلان کردہ ایمنسٹی اسکیم میں توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ریلیف پیکیج میں 6 ماہ کی توسیع کی جائے تو تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری ایک ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 2 ہزار ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔چیئرمین فیاض الیاس نے کہا کہ اب بھی سیکڑوں پراجیکٹس اسکیم کے تحت رجسٹر ہونے سے رہ گئے ہیں، اگر اسکیم کی مدت کو مزید 6 ماہ تک بڑھایا جائے تو تعمیراتی شعبے میں سرمایہ ایک ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 2 ہزار ارب روپے سے بھی زیادہ ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق 500 سے زائد تعمیراتی منصوبے رجسٹر ہونے سے رہ گئے ہیں، جن کی مالیت ایک ہزار ارب روپے سے بھی زیادہ ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والوںکو دی گئی سہولت 30 جون 2022 تک اور تعمیراتی پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے مقررہ سال 2023 میں توسیع کرکے سال 2024 مقرر کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ برس سے کرونا وبا کے باعث پوری دنیا کی طرح پاکستان کی معیشت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، کرونا کی دوسری اور تیسری لہر کے باوجود ایمنسٹی اسکیم کے مثبت اثرات سیمنٹ، سریا کی ملکی تاریخ کی بلند ترین پیداوار اور پینٹ، ٹائلز سمیت دیگر تعمیراتی مصنوعات کی ریکارڈ فروخت کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں جبکہ 100 فیصد پیداوار کے باوجود سیمنٹ، سریا اور دیگر تعمیراتی طلب کو پورا کرنا مشکل ہوگیا ہے، یہی وجہ ہے کہ سیمنٹ اور سریا کے مزید پلانٹس لگائے جارہے ہیں اور تعمیرات کی ذیلی صنعتوں میں بڑے پیمانے پر توسیع کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کے ریلیف پیکیج کے ذریعے اہداف اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے، جب تک ایمنسٹی اسکیم میں مزید 6 ماہ کی توسیع نہ کی جائے۔

Your Thoughts and Comments