مقامی کاٹن مارکیٹ میں پھٹی کی رسد میں اضافہ کے سبب روئی کے بھا ؤمیں تیزی کا عنصر برقرار رہا

اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 300 روپے کا اضافہ کر کے اسپاٹ ریٹ فی من 13000 روپے کے بھا ؤپر بند کیا

مقامی کاٹن مارکیٹ میں پھٹی کی رسد میں اضافہ کے سبب روئی کے بھا ؤمیں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 31 جولائی2021ء)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کی روئی کی خریداری میں دلچسپی اور پھٹی کی رسد میں اضافہ کے سبب روئی کے بھا ؤمیں تیزی کا عنصر برقرار رہا کاروباری حجم بھی بڑھتا جارہا ہے۔ جمعہ کی شام کو صوبہ سندھ میں لاک ڈاؤن اور نیویارک کاٹن کے بھا ؤمیں کمی کی خبروں کی وجہ سے مارکیٹ میں 100 تا 150 روپے کا جھول آیا تھا بعد ازاں دوبارہ مارکیٹ مستحکم ہوگئی۔

بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں تیزی کا تسلسل جاری ہونے کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز کے کئی بڑے گروپ بھی روئی کی خریداری کررہے ہیں دوسری جانب نئی نئی جننگ فیکٹریاں بھی شروع ہوتی جارہی ہے موصولہ رپورٹ کے مطابق فی الحال پاس کی پیداوار تسلی بخش ہے گو کہ پاس کا پیداواری رقبہ اولین تخمینہ سے کم ہے لیکن فی ایکڑ پیداوار نسبتا زیادہ بتائی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

صوبہ سندھ میں ابھی بھی بارشی پھٹی آرہی ہے جس کے باعث پھٹی کے بھا ؤمیں فی 40 کلو 500 تا 700 روپے کا مندہ چل رہا ہے۔ صوبہ پنجاب میں بھی گاہے گاہے پھٹی کی رسد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے 15 اگست کے بعد رسد میں اضافہ ہونے کی توقع ہے لیکن ابھی بھی بارشوں کی پیش گوئیاں کی جارہی ہے مناسب بارش ہونے کی صورت میں فصل مزید اچھی ہوگی کئی ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کی درآمد شدہ روئی کی شپمینٹ میں تاخیر ہونے کی وجہ سے انہیں مقامی مارکیٹ سے روئی خرید کر Gape پورا کرنا پڑ رہا ہے۔

دریں اثنا ڈالر مضبوط ہونے کی وجہ سے روئی کی درآمد بھی مہنگی ہوتی جارہی ہے۔ گزشتہ سال بین الاقوامی روئی کا بھاؤ فی پانڈ 62 تا 64 امریکن سینٹ سے شروع ہوکر 75 تا 78 امریکن سینٹ میں دستیاب تھی ملوں نے باخوشی درآمدی معاہدے کرلئے تھے لیکن اس سال روئی کا بھا فی پانڈ 80 تا 90 امریکن سینٹ کی انچی سطح پر چل رہا ہے جس کے باعث ملز درآمد میں محتاط انداز اختیار کررہے ہیں گو کہ روئی کے درآمد کنندگانوں کا کہنا ہے کہ بھا اونچے ہونے کے باوجود روزانہ درآمدی معاہدے بھی ہو رہے ہیں لیکن احتیاط کے ساتھ۔

فی الحال تقریبا 5 لاکھ گانٹھوں کے درآمدی معاہدے ہو چکے ہیں۔ اس سال شپمنٹ کے ریٹ اور کنٹینرز کے ریٹ گزشتہ سال کی نسبت کافی بڑھے ہوئے ہیں۔ بہرحال کپاس کی پیداوار کم ہونے اور ٹیکسٹائل مشینری کی درآمد بڑھنے کے سبب مقامی طور پر روئی کی کھپت بھی بڑھ کر ذرائع کے مطابق ایک کروڑ 70 تا 75 لاکھ گانٹھوں کی ہوگی۔ اس طرح روئی کا درآمدی حجم بھی بڑھ جانے کی صورت میں زرمبادلہ کا خرچہ بڑھ جائے گا۔

فی الحال مقامی کاٹن مارکیٹ میں روئی کے ساتھ ساتھ کپڑے، گارمنٹس اور یارن کے بھا ؤمیں بھی نسبتا اضافہ ہو رہا ہے۔صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ فی من 12900 تا 13100 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 4600 تا 5400 روپے بنولہ کا بھاؤ فی من 1600 تا 1750 روپے صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 13500 تا 13600 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 4800 تا 6200 روپے بنولہ کا بھا ؤفی من 1700 تا 1900 روپے رہا۔

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 300 روپے کا اضافہ کر کے اسپاٹ ریٹ فی من 13000 روپے کے بھا ؤپر بند کیا۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں نسبتا استحکام رہا۔ نیویارک کاٹن کے وعدے کا بھاؤ 89 تا 90 امریکن سینٹ کے درمیان چلتا رہا۔ USDA کی روئی کی ہفتہ وار برآمدی رپورٹ گزشتہ ہفتہ کی برآمد سے صرف 3 فیصد کم رہی تاہم ڈالر کا بھا کم ہونے کے سبب روئی کا بھاؤ مستحکم رہا گو کہ چین اور امریکہ کے مابین تجارتی تنازعہ چل رہا ہے۔

چین امریکا سے روئی درآمد نہیں کر رہا۔ اس ہفتہ پاکستان 22-2021 کے برآمدی معاہدوں میں دوسرے نمبر پر رہا۔ برازیل میں طوفانی بارشوں کے سبب کپاس کی فصل متاثر ہوئی ہے جس کے باعث وہاں سے برآمدی معاہدے نسبتا کم ہو رہے ہیں روئی کا بھاؤ بھی نسبتا مستحکم کہا جا سکتا ہے اور وسطی ایشیا کی ریاستوں میں روئی کا بھا ؤمستحکم رہا جبکہ بھارت میں روئی کے بھا ؤمیں تیزی کا عنصر غالب رہا روئی کا بھاؤ فی کینڈی (356 کے۔جی) 55600 روپے رہا کاٹن کارپوریشن آف انڈیا CCI نے روئی کی فروخت جاری رکھی ہے ہفتہ کے دوران بھا میں 300 تا 400 روپے کا اضافہ کیا گیا ذرائع کے مطابق CCI کے پاس روئی کا اسٹاک تقریبا ختم ہونے والا ہے۔ علاوہ ازیں بھارت بنگلہ دیش کو روئی کی 10 لاکھ گانٹھیں برآمد کرے گا۔

Your Thoughts and Comments