امجد رفیع کاترکی کے ساتھ براہ راست زمینی تجا رتی راستہ کھولنے کا خیر مقدم

امجد رفیع کاترکی کے ساتھ براہ راست زمینی تجا رتی راستہ کھولنے کا خیر ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 ستمبر2021ء)ایف پی سی سی آئی کی پاکستان ترک جوائنٹ بزنس کونسل کے چیئرمین امجد رفیع نے این ایل سی کے اس اقدام کا پرتپاک خیرمقدم کیا ہے اور اسے سراہا ہی؛ جس کے تحت پاکستان سے ترکی تک سامان کی ترسیل کے لیے TIR سے زمینی راستے سے اجازت حاصل کی ہے۔اس سے نہ صرف شپمنٹ کا وقت بچے گا، بلکہ مال برداری کی قیمت بھی کم ہو جائے گی جو فی الحال سمندر کے ذریعے پانچ گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔

یہ تمام مشترکہ اجلاسوں اور دیگر متعلقہ فورمز میں PTJBC کی ایک طویل عرصے سے التواء کا شکارسفارش تھی۔ امجد رفیع نے مزید کہا کہ اگر یہ کامیاب ہوتا ہے تو طویل مدتی عرصے کے لیے نہ صرف CIS ممالک اور یورپ بھی زمینی راستے سے قابل رسائی ہوگا۔واضح رہے کہ استنبول،تہران، اسلام آباد (ITI) روڈ کوریڈور کو نیشنل لاجسٹک سیل (NLC) کی جانب سے بحال کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان سے ترکی میں اعلی قیمت کی مصنوعات کی ترسیل کے ذریعے تجارتی روابط کو مستحکم کرنے کا عمل انجام دیا جا سکے۔

(جاری ہے)

اسITI روڈ کوریڈور کی بحالی سے ایران اور ترکی کے ساتھ پاکستان کا علاقائی رابطہ بہتر اور مضبوط ہوگا ۔NLC تین ٹریلرز پر 40 فٹ کنٹینرز میں بھری اعلی قیمت والی مصنوعات کو اسلام آباد سے استنبول تافتان، زاہدان اور تہران کے راستے لے جانے کے لیے اچھی طرح سے تیار ہے۔ITI روڈ کوریڈور کو بحال کرنے والی یہ پہلی تجارتی روڈ ہوگی۔ ان اقدامات کے تحت اعلیٰ قیمت کی مصنوعات کو پیک کیا جاتا ہے اور مناسب طریقے سے سیل کیا جاتا ہے اور عام طور پر کنٹینرز کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جاتا ہے تاکہ وصول کنندگان کو ان کی محفوظ ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

ان مصنوعات میں ٹیکسٹائل سے متعلقہ سازوسامان، خام مال، الیکٹرانکس، پلاسٹک، گھریلو اشیاء، کمپیوٹر، گھریلو ایپلائینسز، کھانے کی اشیاء، ڈرائی فروٹ، فرنیچر اور قالین وغیرہ شامل ہیں۔علاقائی ٹرانسپورٹ آپریشنز اور رابطے کے لیے قومی پرچم بردار این ایل سی کو گزشتہ ماہ پاکستان نیشنل اتھارٹی کمیٹی آف انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ یونین کی جانب سے لائسنس دیا گیا تھا۔

TIR کے داخلے کے تحت، NLC کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ بغیر کسی طریقہ کار کی رکاوٹوں کے سرحدوں کے اندر سامان کی نقل و حرکت کی اجازت دے۔PTJBC کے چیئرمین کے مطابق، ترکی یورپی ممالک کے لیے ایک گیٹ وے ہے، جس میں ٹیکسٹائل خام مال کی بہت بڑی ضرورت ہے (ڈینم، سوت وغیرہ) اور پاکستان جو اس ضرورت کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے،بنگلہ دیش سے بہت پہلے یورپ کو اپنے سامان کی نقل و حمل کے قابل ہو گا ۔ امجد رفیع نے مزید کہا کہ یہ سروس برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان دونوں کے لیے فائدہ مند ہوگی کیونکہ فی الحال شپمنٹ کو آخری منزل تک پہنچنے میں تقریبا ایک ماہ کا وقت لگتا ہے۔

Your Thoughts and Comments