مالی سال 2019 میں جاری کھاتوں کا خسارہ بہت زیادہ تھا،گورنراسٹیٹ بینک

جون 2019 سے مارچ 2020 تک آئی ایم ایف کے پروگرام پر عمل کیا اور معیشت کو مستحکم کیا،ڈاکٹررضا باقر کا اسلام آباد سمٹ سے خطاب

$کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 ستمبر2021ء)گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقرنے لیڈرز ان اسلام آباد سمٹ سے خطاب میں کہاہے کہ مالی سال 2019 میں جاری کھاتوں کا خسارہ بہت زیادہ تھا۔ بجٹ خسارہ 2019 میں 9فیصد تھا۔ پاکستان کے میکرو اکنامک انڈیکیٹرز خراب ہورہے تھے۔ جب یہ انڈیکیٹر خراب ہوتے ہیں تو امداد اور قرض دینے والے ادارے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

اُس وقت بھی دیگر ادارے پیچھے ہٹ گئے تھے اور ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ آئی ایم ایف پروگرام کیلیے مشکل فیصلے لینا پڑتے ہیں۔ جون 2019 سے مارچ 2020 تک آئی ایم ایف کے پروگرام پر عمل کیا اور معیشت کو مستحکم کیا۔ اس دوران پاکستان اسٹاک مارکیٹ 30 فیصد بڑھی۔ اسٹاک مارکیٹ اشارہ ہوتی ہیں کہ مستقبل کے حوالے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھاہے۔

(جاری ہے)

جب ہم معیشت پر قابو پارہے تھے کہ کورونا آگیا۔لیکن حکومت نے این سی او سی کے ذریعے اسے اچھی طرح کنٹرول کیا۔۔اسٹیٹ بینک نے معیشت کو سپورٹ کے اقدامات کیے۔ایک سال میں بزنس اور گھروں کے لیے 2ہزار ارب روپے فراہم کیے۔اسٹیٹ بینک نے 240 ارب روپے سستے قرض ملازمت برقرار رکھنیکے لیے دیے۔ کورونا کی وجہ سے ہماری معیشت نیچے جارہی تھی لیکن گزشتہ مالی سال معاشی ترقی کی رفتار 4 فیصد رہی۔

4فیصد جی ڈی پی گروتھ کا مطلب ہے کہ افراط زر سے 4فیصد زیادہ رفتار پر لوگوں کی آمدنی بڑھی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج زرمبادلہ ذخائر 20 ارب ڈالرز کے ہیں جب کہ نیٹ انٹرنیشنل ذخائر 16 ارب ڈالرز سے زائد بڑھ گئے ہیں۔ ہماری جی ڈی پی ایک اچھی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ ترسیلات زر میں 21 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ مالی سال ترسیلات 6 ارب ڈالرز بڑھ گئیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکاونٹ میں 2.3 ارب ڈالرز آچکیہیں۔ مئی سے اب تک ایکس چینج ریٹ میں تبدیلی سے کرنٹ اکاونٹ خسارہ بہت کم ہوگیا ہے۔ اگرایکس چینج ریٹ بروقت تبدیل نہ ہوتا تو کرنٹ اکاونٹ خسارہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں تبدیلی کرکے طلب کو کم کیا ہے۔ڈیجیٹائزیشن ملک میں تیزی سیاپنایا جارہا ہے۔

موبائل فون کے ذریعے لین دین سالانہ 100 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ ہم نے آسان ڈیجیٹل اکاونٹ کھولنے کی سہولت دی ہے۔ایک ملین تک اگر اکاونٹ میں رقم ہیتو سلیف ڈکلیریشن ی بنیاد پر اکاونٹ کھول سکتے ہیں۔ خواتین اگر سلیف ایمپلائڈ ہیں تو وہ اپنا اکاونٹ کھول سکتی ہیں۔ کچھ عرصے بعد سیل فون نمبر کے ذریعے ایک دوسریکو ادائیگی کی جاسکے گی۔ پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی گروتھ پانچ فیصد ہوگی۔

فیصل بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر یوسف حسین کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ مالیاتی صنعت کو ڈیجیٹل سیکٹر میں بہت بڑی سرمایہ کاری کرنا ہے۔ مستقببل میں ٹیلی کام صنعت کو ایک بڑے ڈسٹری بیوشن چینل کے طورپر کام کرنا گا۔ کچھ عرصے بعد بینک برانچیں سپر مارکیٹ بن جائیں گی جہاں مختلف فنانشل مصنوعات فروخت ہوں گی۔یہی وقت ہے کہ بینکس اور مائیکروفنانس بینکس اس میں سرمایہ کاری کریں اور یہی مستقبل ہے۔

سیمنز پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او مارکس ایرک اسٹامیئرنے کہا کہ ٹیکنالوجی اشیاء کی ترسیل کو ختم نہیں کرسکتی ہے۔ ٹیکنالوجی کمیونی کیشن کے فرق کو کم کررہی ہے۔ فارمرز اور صنعت کاروں کو اشیاء سازی کرنا ہوگی۔ پیداواری عمل میں انسانی مداخلت کو کم کرناہوگا۔ اسٹار لنک مڈل ایسٹ اور افریقہ کے سینئر ایگزیکٹو اآفیسر کونسٹینن میک آرو نے کہا کہ جب کورنا شروع ہوا تو آمدنی میں کمی سے قرضوں کی واپسی کے مسائل پیدا ہوئے۔

ملازمین کو مسائل حل کرنے کیلیے اقدامات کیے۔کے الیکٹرک کے سی ای او سید مونس عبداللہ علوی نے کہا کہ ہم ملک کی سب سے بڑے شہر کی خدمت کررہے ہیں۔ اگرآپ کراچی میں طیارے سے لینڈ کریں تو پورا شہر جگ مگ نظر آتا ہے۔ ہم 3.3 ملین صارفین کو خدمات فراہم کرے۔ کرونا وبا میں ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا تھا۔ ہمارے کسٹمر کیئر سینٹر اور فیلڈ اسٹاف نرس اور ڈاکٹر کی طرح تھے جنہوں نے وبا کیدوران لوگوں کی خدمت کی۔

ہم نے اہم تنصیبات کے لیے ایک بائیو سکیور ببل بنایا۔ ایسے علاقوں میں بھی بلا تعطل بجلی دی جو بل ادا نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہمارے نقصانات میں اضافہ ہوا۔ ہم نی900 میگاواٹ کا پلانٹ لگایا ہے، جس کے لیے ہم نے پوری دنیا سے آلات منگوائے گئے ہیں۔غضنفر اعظم چیف ایگزیکٹو موبی لنک مائیکروفنانس بینک کا کہنا تھا کہ کورونا میں ہمارے لیے لوگوں کو مالیاتی خدمات کی فراہمی جاری رکھنا چیلنج تھا۔

ملک میں 50 ملین سے زائد موبائل اکاونٹ ہیں جو کہ پاکستان میں بینکاری اکائونٹ کو دگنا کرتے ہیں۔ یہ لوگ کم آمدنی والے ہیں۔ ہم نے اپنے موجودہ کاروبار کو ڈیجیٹائز کیا بلکہ دیگر بینکوں اور فن ٹیک سے رابطہ کیا اور ان کی خدمات کو بھی شامل کیا۔ آئندہ چار سے پانچ سال میں ہم برانچ بینکاری سے ٹیکنالوجی چینل پر منتقل ہوجائیں گے۔ اینگرو پاکستان کے وائس چیئرمین صمد داود نے اپنے خطاب میں کہا کہ فنانشل مارکیٹ، ٹینلٹ اور پبلک سروسز میں چیزیں تبدیل ہورہی ہیں۔

لیبر مارکیٹ میں لوگ اچھی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔ صارفین وہ مصنوعات خریدنا چاہتے ہیں جس سے نفسیاتی طور پر تعلق ہو۔ اینگرو میں پاکستانیت کمپنی کی بنیاد میں ہے۔لوگوں کے اخلاقیات پر 50 فیصد ریوارڈ دیا جاتا ہے۔چیئرمین واپڈ اور کیپکو لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے بہت سے سازشی نظریات تھے اور رکاوٹیں تھیں۔ ہم نے بتایا کہ سی پیک ہماری دنیا بدل دے گا۔سی ای او جاز اور چیئرمین موبی لنک مائیکرو فنانس بینک لمیٹڈ عامر ابراہیم نے کہا کہ کورونا ایک حیران کن وبا تھی، جس نے لوگوں کو تبدیل ہونے پر مجبور کیا۔ جاز کے تجربے سے میں یہ بتا سکتا ہوں اب یہ بات ہورہی ہے کہ ایک عمارت میں جمع نہ ہوں۔

Your Thoughts and Comments