مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے نرخ میں غیرمعمولی اتار چڑھاؤ رہا

صوبہ سندھ میں روئی کا نرخ اتار چڑھا کے بعد کوالٹی کے نسبت فی من 11700 تا 13500 روپے رہا

مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے نرخ میں غیرمعمولی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 ستمبر2021ء)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے نرخ میں غیرمعمولی اتار چڑھاؤ رہا نیویارک کاٹن کے زیر اثر روئی کے نرخ میں 10 امریکن سینٹ اور 1200 روپے کی غیر معمولی اتار چڑھا ؤکے بعد مجموعی طور پر تیزی کا رجحان رہا۔ ہفتے کے پہلے دو دنوں کے دوران چین کی ایک کمپنی ممکنہ دیوالیہ ہو جانے کی خبروں کی وجہ سے دنیا بھر کی تمام مارکیٹوں میں بھو چال آگیا اور مارکیٹیں بری طرح نیچے آگئی جس کے زیر اثر نیویارک کاٹن مارکیٹ میں روئی کے نرخ میں فی پانڈ 3 امریکن سینٹ کی غیرمعمولی کمی ہوئی جس کی بازگشت مقامی کاٹن مارکیٹ میں بھی سنی گئی اور روئی کے نرخ میں فی من 700 روپے تک کمی واقع ہوگئی جنرز میں زبردست گھبراہٹ دیکھا گیا اور انہوں نے آ دیکھا نہ تا اور دھڑا دھڑ روئی فروخت کرنے لگے جنرز کی گھبراہٹ کو بھانپتے ہوئے ٹیکسٹائل ملز محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے نیچے سے نیچے داموں پر روئی کی خریداری کرتے گئے اور جیسا ہمیشہ ایسے موقعوں پر ہوتا ہے اسی طرح جنرز نیچے داموں پر روئی Over Sold کر گئے اور پھٹی کی خریداری کی طرف دوڑ لگا دی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پھٹی کے بیوپاریوں اور ذمینداروں نے محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے پھٹی کی فروخت کم کردی دوسری جانب خصوصی طور پر پنجاب کے کپاس پیدا کرنے والے بیشتر علاقوں میں بارشوں کے سبب پھٹی کی رسد کم ہوگئی یوں جنرز دونوں جانب سے مشکلات میں مبتلا ہوگئے رسد کم ہونے کی وجہ سے روئی کے گرے ہوئے نرخ میں دوبارہ کچھ جان آنے لگی اور روئی کے نرخ میں فی من 500 تا 600 روپے کا اضافہ ہوگیا دوسری جانب امریکہ میں ڈالر کے دام میں کمی ہونے کی وجہ سے نیویارک کاٹن کے وعدے کا نرخ بھی نسبتا اونچا ہو گیا مقامی مارکیٹ میں بھی روپے کے نسبت ڈالر کے نرخ میں اضافہ کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز نے دوبارہ خریداری شروع کردی جس کی وجہ سے نرخ بڑھ گیا۔

(جاری ہے)

دریں اثنا کاٹن یارن کے ذرائع کے مطابق کاٹن یارن کے نرخ میں کمی کا رجحان ہے فیصل آباد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کاٹن یارن کے نرخ ابھی بھی اونچے ہونے کی وجہ سے کاٹن لومز والوں کو نقصان ہو رہا ہے جس کی سے وجہ فیصل آباد میں کئی علاقوں میں کاٹن لومز مجبورا بند کرنے پڑے ہیں جس کے باعث بے کاری اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے ایسا بھی عندیہ دیا جارہا ہے کہ کئی کاٹن لومز مالکان نقصان کم کرنے کے لیے ہفتے کے دو روز کاٹن لومز بند کر رہے ہیں جس کے باعث کاٹن یارن کی مانگ کم ہونے کی وجہ سے کاٹن یارن کے نرخ میں مزید کمی آنے کا امکان بتایا جارہا ہے۔

صوبہ سندھ میں روئی کا نرخ اتار چڑھا کے بعد کوالٹی کے نسبت فی من 11700 تا 13500 روپے رہا پٹھی کانرخ فی 40 کلو 4200 تا 5700 روپے بنولہ کا نرخ فی من 1450 تا 1800 روپے رہا صوبہ پنجاب میں روئی کانرخ فی من 13200 تا 13600 روپے پھٹی کانرخ فی 40 کلو 5000 تا 5800 روپے بنولہ کانرخ فی من 1650 تا 1800 رہا صوبہ بلوچستان میں روئی کا نرخ فی من 12800 تا 13200 روپے پھٹی کا نرخ فی 40 کلو 6000 تا 6800 روپے بنولہ کانرخ فی من 1600 تا 1800 روپے رہا۔

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ اتار چڑھا کے بعد فی من 50 روپے کی کمی کے ساتھ 13200 روپے کے نرخ پر بند کیا۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں زبردست اتار چڑھا رہا خصوصی طور پر نیویارک کاٹن کے بھا میں تقریبا 10 امریکن سینٹ کا اتارچڑھا ہوا سوموار کے روز وعدے کا بھا چین کی رئیل اسٹیٹ کمپنی کی ممکنہ دیوالیہ ہونے کی خبروں کی وجہ سے دنیا بھر کی کموڈیٹیز کمپنیوں میں بھوچال گیا تھا اور انا فانا بھا میں زبردست کمی واقع ہو گئی تھی نیویارک کاٹن مارکیٹ میں روئی کے وعدے کے بھا میں 3 امریکن سینٹ کی غیر معمولی کمی واقع ہوئی جس کے زیر اثر دیگر ممالک کی کاٹن مارکیٹوں کے ساتھ مقامی کاٹن مارکیٹ میں بھی روئی کے بھا میں فی من 700 روپے تک کی غیر معمولی کمی واقع ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ایک دفعہ تو بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی تھی اور مارکیٹ میں افراتفری کی صورتحال ہو گئی تھی بعد ازاں امریکا میں طوفان آنے اور USDA کی ہفتہ وار برآمدات میں گزشتہ ہفتہ کے نسبت 22 فیصد اضافہ ہونے کی وجہ سے نیویارک کاٹن کے وعدے کا بھا 96 سینٹ کی 10 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

علاوہ ازیں شیپمنٹ کے بحران کے سبب برازیل کے کپاس کے برآمدکنندگان نے روئی کی برآمد کئی ملکوں کیلئے جزوی طور پر بند کر دی ہے کیونکہ پہلے کے کیے ہوئے برآمدی معاہدوں کی ڈیلیوری میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے چین، وسطی ایشیا، افریقہ وغیرہ کے کاٹن کے بھا میں مجموعی طور پر استحکام رہا جبکہ بھارت میں کپاس پیدا کرنے والے سب سے بڑے صوبہ گجرات میں غیرمعمولی بارشوں کی وجہ سے پھٹی کی آمد میں نسبتا تاخیر ہو رہی ہے اور معمولی حد تک فصل کو نقصان ہونے کی اطلاعات بھی آ رہی ہے علاوہ ازیں کاٹن کارپوریشن آف انڈیا CCI نے جزوی طور پر امدادی قیمت MSP پر روئی کی خریداری شروع کر دی ہے۔

Your Thoughts and Comments