پیداواری لاگت ،فریٹ چارجز میں کئی گنااضافہ برآمدات کی تنزلی کی بڑی وجہ ہے‘کارپٹ ایسوسی ایشن

مقامی صنعت کوبھی دیگر ممالک میں مینوفیکچررز،برآمدکنندگان کودی جانے والی سہولیات کی طرز پر پیکج دیا جائے

لاہور/کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 اکتوبر2021ء)پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرزایسوسی ایشن کے چیئرمین میجر(ر) اخترنذیر خان نے کہاہے کہ دہائیوںسے برآمدات کرنے والی کمپنیوں کوشک کی نگاہ سے دیکھنے کی بجائے انہیںخصوصی سہولیات ملنی چاہئیں ،آڈٹ ،ریفنڈ کے مسائل ،طورخم کے راستے آنے والے جزوی تیار خام مال کی سپلائی اوراس پر عائد ٹیکس اور ڈیوٹی سے چھوٹ کے مطالبات تسلیم کئے جائیں۔

ان خیالات کا اظہارانہوںنے سینئر مرکزی رہنما عبد اللطیف ملک،وائس چیئرمین اعجازالرحمان،سینئر ایگزیکٹو ممبرریاض احمد،سعیدخان،دانیال حنیف سمیت دیگر سے ملاقات میںگفتگوکرتے ہوئے کیا ۔ انہوںنے کہا کہ موجودہ حالات میںہاتھ سے بنے قالینوںکی صنعت انتہائی نا مساعدحالات سے دوچارہے لیکن حکومت کی طرف سے کسی طرح کی معاونت فراہم نہیں کی جارہی ۔

(جاری ہے)

مطالبہ ہے کہ حکومت ہاتھ سے بنے قالینوں کی مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک کی جانب سے اپنی صنعت کو دی جانے والی سہولیات اورمراعات بارے مفصل رپورٹ تیار کرائے اورعالمی منڈیوںمیںمقابلے کیلئے ہمیںبھی ا س طرز پر پیکج دیا جائے۔انہوںنے کہا کہ پیداواری لاگت بڑھنے اورفریٹ چارجز میں کئی گنااضافہ بھی برآمدات کی تنزلی کی بڑی وجہ ہے اس لئے حکومت فریٹ پر بھی سبسڈی دینے کا اعلان کرے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان میں اس صنعت سے پانچ لاکھ ہنرمندوں کا روزگاروابستہ ہے اوراگر حکومت تھوڑی سی توجہ دے تواسے دیہی علاقوںمیںروزگار کی فراہمی کے انقلاب کاذریعہ بنایا جا سکتاہے۔

Your Thoughts and Comments