ڈالر کی اونچی پرواز؛ قدر 176 روپے سے بھی اوپر چلی گئی

انٹربینک میں ڈالر کی قدر 84 پیسے اضافے سے 175.27 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 90 پیسے بڑھ کر 176.40 روپے ہوگئی بائیومیٹرک کی شرط کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی طلب نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ بائیو میٹرک کے بھی وہ انتظامات نہیں کیے جاسکے ہیں جو نادرا کے تعاون سے ہونے تھے،ملک بوستان

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 اکتوبر2021ء)سیاسی کشیدگی اور معیشت کے خراب حالات روپیہ پر دبائو کا باعث بن گئے جس کے نتیجے میں منگل کو بھی ڈالر کی تیز رفتار اڑان جاری رہی اور ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈالر کے انٹربینک ریٹ 175 روپے جبکہ اوپن مارکیٹ ریٹ 176 روپے سے بھی تجاوز کرگئے۔فاریکس ایسوسی ایشن کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 84 پیسے کے اضافے سے 175.27 روپے پر بند ہوئی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 90 پیسے بڑھ کر 176.40 روپے پر بند ہوئی۔

ماہرین نے بتایاکہ اسٹیٹ بینک کی زرمبادلہ کی مارکیٹوں میں عدم مخالفت اور ڈالر کی قدر کو مارکیٹ فورسز پر چھوڑنے کی پالیسی سے ایک طرف تو درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنی ہے جبکہ دوسری جانب آئی ایم ایف کو روپیہ کی قدر کو آزاد رکھنے کا پیغام دینا ہے۔

(جاری ہے)

ماہرین نے کہاکہ عالمی مارکیٹ میں فی بیرل برینٹ کی قیمت بڑھ کر 86 ڈالر اور امریکی تیل ڈبلیو ٹی آئی کی فی بیرل قیمت 85 ڈالر کے ساتھ سات سال کی بلند ترین سطح پر پہنچنے جیسے عوامل کے باعث بھی ڈالر اور دیگر اہم غیرملکی کرنسیوں کے مقابلے میں روپیہ مسلسل تنزلی دوچار ہے۔

کرنسی ڈیلرزکے مطابق جولائی سے اب تک انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 11 فیصد مہنگا ہوچکا ہے اور جنوری سے اب تک اس کی قیمت 22 فیصد بڑھ چکی ہے۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف سے معاہدہ طے پانے تک ہم روپے پر دبائو جاری دیکھ رہے ہیں۔فاریکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کے ساتھ مذاکرات کے نتائج میں تاخیر اور روپے کی قدر میں کمی کی شرائط کی افواہوں پر کرنسی مارکیٹ میں ہلچل ہے ، جس کے نتیجے میں ڈالر 175 روپے کی ریکارڈ سطح پر بھی عبور کرگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بائیومیٹرک کی شرط کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی طلب نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ بائیو میٹرک کے بھی وہ انتظامات نہیں کیے جاسکے ہیں جو نادرا کے تعاون سے ہونے تھے۔ملک بوستان نے کہا کہ جولائی سے اب تک روپے کی قدر 11 فیصد تک گر چکی ہے، انٹر بینک مارکیٹ میں ٹھہرائو اور آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کی منظوری تک روپے پر دبائو جاری رہ سکتا ہے۔

Your Thoughts and Comments