آئی ایم ایف معاہدہ۔ ملک کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل گیا:میاں زاہد حسین

معیشت سکڑنا شروع، بائیس کروڑعوام پراثرپڑے گا

آئی ایم ایف معاہدہ۔ ملک کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل گیا:میاں زاہد حسین
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 نومبر2021ء) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ حکومت کا آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے اورعالمی ادارے کی سخت شرائط پرعمل درآمد بھی شروع کردیا گیا ہے تاکہ آئی ایم ایف کا بورڈ جنوری میں اسکی توثیق کردے جس کے بعد ملک کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ وقتی طور پر ٹل جائے گا۔

کچھ عرصے کے لیے روپے اورمعیشت کواستحکام نصیب ہوگا تاہم بجلی گیس پٹرول اوردیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کا نہ رکنے والا سلسلہ چل نکلے گاجس سے عوام کا جینا دشوارہوجائے گا۔ معاہدے سے پیداوار، روزگاراوربرآمدات میں کمی آئے گی اورمعیشت سکڑنا شروع ہوجائے گی جس کا اثر بائیس کروڑعوام پرپڑے گا۔

(جاری ہے)

میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ برسہا برس کی وعدہ خلافیوں اوربعض معاملات میں مغربی ممالک کی خواہشات نہ ماننے کی وجہ سے آئی ایم ایف کی شرائط وقت کے ساتھ مذید سخت ہوتی جائیں گی۔

حکومت ترقیاتی اخراجات میں بخوشی کئی سوارب روپے کٹوتی کرے گی مگراپنی شاہ خرچیوں پرکبھی کمپرومائیزنہیں کرے گی۔ جیسے جیسے الیکشن قریب آتے جائیں گے ووٹروں اورسیاستدانوں کونوازنے کے لئے فضول خرچیاں بڑھتی جائیں گی اورسارا خرچہ روٹی کو ترستی عوام کی جیب سے نکالا جائے گا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قرضے کی قسط کی منظوری کے بعد ہی دیگرممالک اوربین الاقوامی سرمایہ کارپاکستان کو قرض دینے پرآمادہ ہونگے جبکہ بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ سے بھی بھاری سود پرقرضہ لیا جا سکے گا اورمستقبل قریب میں مہنگے قرضے لے کر قرضے اتارنے کا سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ کافی عرصے سے حکمران کبھی معیشت کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوئے بلکہ اعداد وشمار کی شعبدہ بازیوں کے زریعے ملکی ترقی کا بے بنیاد تاثر پیدا کرنے میں زیادہ دلچسپی لیتے رہے ہیں۔

ملک کی معاشی حالت 2018 سے مسلسل زوال پزیر ہے جسے کبھی ایک شعبہ کومراعات دے کراورکبھی دوسری لابی کو فوائد دے کرملکی ترقی کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے مگرملکی وغیر ملکی سرمایہ کار سب سمجھتے ہیں اسی لئے وہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے دور بھاگتے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے مذید کہا کہ کیپٹو پاور پلانٹس کے لئے گیس 2.50 ڈالر مہنگی کردی گئی ہے جس سے پیداواری لاگت بڑھے گی اورپاکستان کی کئی مصنوعات بین الاقوامی منڈی میں مسابقت کی صلاحیت کھودینگی۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ ملک کو معاشی دلدل سے نکالنے کا واحد حل پرائیوٹائزیشن، بجلی، گیس، سرکاری انتظام میں چلنے والی کار پوریشنز سے نقصانات کا خاتمہ اور گورننس میں بہتری لانا ہے۔

Your Thoughts and Comments