ایس ای سی پی نے کمپنیز ریگولیشنز میں ترامیم متعارف کروادیں

شیئرز کی دوبارہ خریداری ،کمپنی کے شیئرز کا اجرا ء اور نان کیش ایسٹس کی تشخیص کے طریق کار کی وضاحت شامل

ایس ای سی پی نے کمپنیز ریگولیشنز میں ترامیم متعارف کروادیں
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 نومبر2021ء)سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان نے ایکویٹی بڑھانے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کارپوریٹ سیکٹر، خصوصی طور پر اسٹارٹ اپس اور چھوٹی کمپنیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کمپنیز ریگولیشنز 2020 میں ترامیم متعارف کروائی ہیں۔ایس ای سی پی کے اعلامیہ کے مطابق نمایاں تبدیلیوں میں کمپنیز کے شیئرز کی دوبارہ خریداری کی سہولت،ایس ای سی پی کی منظوری کے بغیر مختلف حقوق کے ساتھ کمپنی کے شیئرز کا اجرا ء اور نان کیش ایسٹس کی تشخیص کے طریق کار کی وضاحت شامل ہے۔

ایس ای سی پی کے مطابق موجودہ قانون میں کمپنیوں کوایک سے زیادہ قسم کے شیئرز رکھنے اور کیپٹل فراہم کرنے والوں کے تقاضوں کے مطابق مختلف طرز کے ڈیویڈنڈ اور شراکت داری کے حقوق جاری کرنے کا حق حاصل ہے تاہم ان ترامیم کے بعد کمپنیاں ایس ای سی پی کی پیشگی منظوری کے بغیر بھی حصص جاری کرسکتی ہیں۔

(جاری ہے)

اس ریگولیٹری منظوری کے خاتمے سے لاگت کے انتظامی بوجھ کو کم کرنے میں مدد ملے گی اورکارپوریٹ سیکٹرکوترقی ملے گی۔

ایس ای سی پی کے اعلامیے کے مطابق فی الحال یہ ضوابط صرف ترجیحی حصص کو عمو می حصص میں تبدیل کرنے کی اجازت دیتے ہیں جبکہ حصص کی دوسری کلاسوں کے لیے کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے ۔ اس ترمیم کے نتیجے میں کمپنیوں کو ان کی اپنی مالی ضروریات اور اپنے شیئر ہولڈرز کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہترین سرمائے کے ڈھانچے کو برقرار رکھنے میں سہولت ملے گی۔

اس کے علاوہ غیر منقولہ جائیداد، غیر طبعی اثاثوں یا خدمات کی تشخیص کے لیے ایک مکمل طریقہ کار بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ اب پاکستان انجینئرنگ کونسل اورکوالٹی کنٹرول ریویو(کیو سی آر) ریٹیڈ چارٹرڈ اکانٹنٹ فرموں کے ساتھ رجسٹرڈ کنسلٹنگ انجینئرز ایکٹ کے مطابق ویلیو ایشن کرنے کے اہل ہوں گے۔ یہ ترامیم متعدد اسٹیک ہولڈرز اور سمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز کی جانب سے کئے جانے والے سوالات اورموصول ہونے والی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے متعارف کروائی گئی ہیں جو کہ بین الاقوامی دائرہ اختیار کے مطابق ہیں۔

Your Thoughts and Comments