نئے گیس ٹرمینلز کی تعمیر کو گیس سٹوریج سے مشروط کیا جائے ،میاں زاہد حسین

سرکاری گیس کمپنیاں دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ملک بھر میں گیس ذخیرہ کریں،چیئرمین نیشنل بزنس گروپ

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 جنوری2022ء) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ نجی شعبہ کو گیس درآمد کرنے کی اجازت دی جائے جبکہ نئے گیس ٹرمینلز کی تعمیر کو گیس سٹوریج بنانے سے مشروط کیا جائے اورسرکاری گیس کمپنیوں کو ملک بھر میں گیس سٹوریج بنانے کا پابند کیا جائے تاکہ گیس کی کمی یا سپلائی میں خلل اندازی کی صورت میں بحران سے بچا جا سکے۔

میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں گیس کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ مقامی گیس کی رسد9فیصد سالانہ کی شرح سے کم ہو رہی ہے جس سے ڈومیسٹک، کمرشل اور انڈسٹریل صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔

(جاری ہے)

موسم گرما میں گیس کی طلب بھی کم ہو جاتی ہے جبکہ عالمی منڈی میں اسکی قیمت بھی کم ہو جاتی ہے جسے درآمد کر کے زخیرہ کیا جا سکتا ہے تاکہ موسم سرما میں استعمال کیا جا سکے۔

دنیا کے بہت سے ممالک میں تیل کے ساتھ گیس بھی زخیرہ کی جاتی ہے پاکستان میں بیس دن کا تیل زخیرہ کرنے کی گنجائش تو موجود ہے مگر ایک گھنٹے کی بھی گیس زخیرہ کرنے کی گنجائش موجود نہیں ہے جس سے انرجی سیکورٹی متاثر ہوتی ہے۔ امریکہ نے دس سال کی ضروریات کی گیس زخیرہ کی ہوئی ہے، یورپ ، جرمنی اور اسکے بعد اٹلی نے بھی سب سے زیادہ گیس زخیرہ کی ہوئی ہے، جاپان، چین اور بھارت بھی اس سلسلہ میں سرگرمی دکھا رہے ہیں مگر پاکستان میں گیس زخیرہ کرنے کی تجاویز کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے۔

میاں زاہد حسین نے مذید کہا کہ اس وقت ملک میں گیس کی طلب چھ ارب مکعب فٹ روزانہ ہے جبکہ پیداوار 3.8 ارب مکعب فٹ روزانہ ہے اور 1.1 ارب مکعب فٹ روزانہ ایل این جی درآمد کی جا رہی ہے جسے موسم گرما میں سستے داموں درآمد کر کے اسٹورکیا جا سکتا ہے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی یا عالمی منڈی میں اتار چڑھائو سے صارفین کو محفوظ رکھا جا سکے۔ موجودہ حالات میں نئے ٹرمینلز بنانے ، پرانے ٹرمینلز کو توسیع دینے، گیس درآمد کرنے کے خواہشمند بزنس گروپس کے خلاف سازشیں بند کرنے، ملک سے بھاگی ہوئی آئل اینڈ گیس ڈھونڈنے والی کمپنیوں کو واپس لانے اور سرکاری گیس کمپنیوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ انرجی سیکورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔

Your Thoughts and Comments