شدید سیلاب سے سندھ میں چاول کی 80 فیصد اور جنوبی پنجاب میں 60 فیصد فصل تباہ ہو گئی، شہزاد علی ملک

شدید سیلاب سے سندھ میں چاول کی 80 فیصد اور جنوبی پنجاب میں 60 فیصد فصل ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 22 ستمبر2022ء) پاکستان ہائی ٹیک ہائبرڈ رائس ایسوسی ایشن (پی ایچ ایچ ایس اے) کے چیئرمین شہزاد علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب سے سندھ میں چاول کی 80 فیصد اور جنوبی پنجاب میں 60 فیصد فصل تباہ ہو گئی ہے، اس کے علاوہ انفراسٹرکچر، سڑکیں، پل ٹوٹ گئے ہیں اور ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں معیشت مکمل طور پر تباہ جبکہ ریکارڈ تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

جمعرات کو یہاں ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ میں چاول کی کاشت کے علاقوں میں سب سے زیادہ سیلاب ریکارڈ کیا گیا جس کی وجہ سے 18 لاکھ ٹن چاول کا نقصان ہوا یا اس کی 80 فیصد متوقع پیداوار کا نقصان ہوا۔

(جاری ہے)

جنوبی پنجاب میں بھی یہی افسوسناک صورتحال ہے اور چاول کی فصل کو 60 فیصد نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے کپاس اور گنے کے زون میں سیلاب کم رہا ہے۔

تاہم دونوں زونز میں روزانہ کی بنیاد پر غیر معمولی بارشیں ہوئیں جس سے کپاس کی فصل تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق دونوں صوبوں میں سبزیوں اور مویشیوں سمیت تینوں تجارتی فصلوں سے کم از کم 3 بلین امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے ملک میں خوراک کی درآمد میں اضافہ کرنا ہو گا جہاں 43 فیصد آبادی پہلے ہی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔

سیلاب کے نتیجے میں درآمدات زیادہ، برآمدات کم اور مہنگائی زیادہ ہو سکتی ہے جس سے معاشی استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ شہزاد علی ملک نے سندھ اور پنجاب کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ دھان کی موجودہ کھڑی فصلوں کو بچانے کے لیے مطلوبہ پانی کی مکمل دستیابی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ تمام کسانوں کو بلاسود قرضے فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اگلی فصلیں کاشت کرسکیں۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ کھاد، تصدیق شدہ بیج اور رعایتی نرخوں پر بجلی کی دستیابی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک بھر میں ہر قسم کے غیر تصدیق شدہ بیجوں کے استعمال پر پابندی عائد کرے اور بمپر پیداوار کے لیے صرف ہائی ٹیک ہائبرڈ یا تصدیق شدہ بیج ہی استعمال کیے جائیں جس سے یقیناً کسانوں کے منافع میں بھی اضافہ ہوگا۔

Your Thoughts and Comments