سولر پاور کے ذریعے سالانہ دس ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت کی جا سکتی ہے ،چیئرمین این بی جی میاں زاہد حسین

سولر پاور کے ذریعے سالانہ دس ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت کی جا سکتی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 22 ستمبر2022ء) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ سولر پاور کے ذریعے سالانہ دس ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت کی جا سکتی ہے ، ملک میں شمسی توانائی کا فروغ ناگزیر ہے ، سولر پاور کی بھرپور حوصلہ افزائی سے پاکستان کا درآمد شدہ ایندھن پر انحصار اور تجارتی خسارہ بھی کم ہو گا ۔

میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ مالی سال میں 20 ارب ڈالر کا تیل اور گیس منگوائی گئی جب کہ 10 ہزار میگاواٹ بجلی شمسی توانائی سے بنا کر دس ارب ڈالر کا زرمبادلہ با آسانی بچایا جا سکتا ہے، پاکستان شمسی توانائی کی دولت سے مالا مال ہے تاہم اس صنعت کو مشکلات درپیش ہیں ۔انہو ں نے کہاکہ سولر پینلز اور دیگر آلات کی درآمد کے لیے زرمبادلہ کی فراہمی کو مرکزی بینک کی اجازت سے مشروط کر دیا گیا ہے اور گرشتہ اڑھائی ماہ سے کوئی ایل سی نہیں کھولی گئی ہے جبکہ پہلے سے درآمد شدہ سامان کی کلیئرنس کے لیے بھی اسٹیٹ بینک سے زرمبادلہ کی فراہمی میں تاخیر ہورہی ہے جس سے ملک میں سولر پینلز اور دیگر سامان کی شارٹیج ہو گئی ہے اور سولر کمپنیاں اپنے معاہدوں پر عمل درآمد کرنے سے قاصر ہو گئی ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ حکومت ملک میں شمسی توانائی کے فروغ کے لیے فوری اقدامات کرے اور سیکٹر کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیاجائے۔

Your Thoughts and Comments