سرکاری اداروں نے ہی حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے بلیک مارکیٹ کے ذریعے ایل پی جی کی قیمت کو 300روپے کلو کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچادی

سرکاری اداروں نے ہی حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے بلیک مارکیٹ کے ذریعے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 جنوری2023ء)ملک میں سرکاری اداروں نے ہی حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے بلیک مارکیٹ کے ذریعے ایل پی جی کی قیمت کو 300روپے کلو کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچادی ۔ گھریلو سلینڈر کی قیمت 235روپے بڑھکر 3550روپے اور کمرشل سلینڈر کی قیمت 908روپے بڑھکر 13620روپے کی بلند سطح پر آگئی ہے۔ اوگرا کی فی کلوگرام ایل پی جی کی مقررہ قیمت 204روپے ہے لیکن اسکے برخلاف سرکاری ادارے ایس ایس جی سی نے فی کلو ایل پی جی کی قیمت 300روپے تک پہنچادی ہے۔

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے چئیرمین عرفان کھوکھر نے منگل کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ جاری بحرانی حالات میں سرکاری گیس کمپنی مافیا بن گئی ہے جو فی ٹن ایل پی جی پر ایک لاکھ روپے کی ناجائز منافع خوری کررہی ہے اور ملک میں یومیہ 5000ٹن ایل پی جی فروخت ہورہی ہے۔

(جاری ہے)

اس وقت ملک ڈالر کی قلت کے علاوہ بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے اور ان حالات میں مافیا سے چھٹکارا حاصل کرکے زیادہ سے زیادہ خود انحصاری کے اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ گذشتہ 31ماہ سے بند رکھا گیا ہے اگر جے جے وی ایل کو آپریشنل کردیا جائے تو اس سے ملک میں یومیہ 550 میٹرک ٹن سے 750میٹرک ٹن ایل پی جی کی پیداوار حاصل کرکے مافیا کی اجارہ داری کا خاتمہ اور صارفین کے لیے ایل پی جی کو مقررہ سرکاری قیمت پر لایا جاسکتا ہے۔ عرفان کھوکھر نے بتایا کہ جے جے وی ایل کی 31ماہ بندش سے ریونیو کی مد میں حکومت کو اب تک 157ارب روپے کا خسارہ ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس ایس جی سی نے مقامی مارکیٹ میں اپنی اجارہ داری اور بلیک مارکیٹنگ کو جاری رکھنے کے لیے جے جے وی ایل کی مستقل بندش کے لیے لابنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔ ملک میں فی الوقت صرف 2000میٹرک ٹن ایل پی جی کی پیداوار ہے جبکہ کھپت 5000ٹن سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس طرح سے ملک کا 60فیصد درآمدی ایل پی جی پر انحصار ہوگیا ہے۔ عرفان کھوکھر نے بتایا کہ تاریخ ساز قیمتوں کے باعث ایل پی جی صارفین کی دسترس سے باہر ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کی بلندترین قیمت اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف آج سے ملک گیر سطح پر احتجاج کا آغاز کردیا ہے اورحکومت کو چار یوم کا الٹی میٹم دیا جارہا ہے بصورت دیگر کراچی سمیت پورے ملک میں 28جنوری سے ایل پی جی کی شٹرڈاؤن کرکے اسکی فروخت بند کردی جائے گی

Your Thoughts and Comments