Garmi Kay Mashrobat

گرمی کے مشروبات

Garmi Kay Mashrobat Recipe In Urdu

گرمیوں کا موسم جسم و جان پر ایک عذاب بن کر نازل ہوتا ہے اور اس عالم میں کوئی بھی چیز انسان کو اس قدر زیادہ تسکین بہم نہیں پہنچاتی جتنا کہ ٹھنڈے شربت کا ایک گھونٹ۔ چھوٹے بچے ہوں، نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوں یا بزرگ افراد ہوں۔ ایسے موسم میں سب کو ہی ٹھنڈے مشروب کے ایک گلاس کی طلب بے قرار رکھتی ہے۔

ہر گھرانے کا یہ تجربہ ہے کہ اگر ایک ہی قسم کا مشروب استعمال کیا جائے تو پینے والے جلد ہی اس سے اکتا جاتے ہیں یا وہ انہیں اچھانہیں لگتا۔ پھر اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ نئے ذائقوں کو تلاش کیا جائے اور ورائٹی کی تلاش شروع ہوتی ہے ورائٹی کی اہمیت سے بھلاکون انکار کر سکتا ہے؟یہیں تو زندگی کا اصل مزہ ہے کسی بھی شعبہ زندگی میں ورائٹی کے بغیر توگزارہ ہی نہیں ہے۔
فی الوقت بے شمارسر بند مشروبات اور پھولوں کے رس وغیرہ بازار میں موجود ہیں اور ان کی خوب فروخت ہو رہی ہے۔لیکن ان کے استعمال کے سلسلے میں دو مشکلات ہیں۔ وہ دو قسم کے بوجھ پیداکرتے ہیں ایک بوجھ تو وہ جیب پر ڈالتے ہیں کیونکہ ان کی قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں اور دوسرا بوجھ وہ جسم پر ڈالتے ہیں اور وزن بڑھاتے ہیں ان کے اندر چونکہ مٹھاس کا تناسب زیادہ ہوتا ہے اس لئے وہ جسم کو موٹا کرتے ہیں مٹاپے کا سب سے پہلا حملہ عمر رسیدہ لوگوں اور بوڑھوں میں پیٹ اور کمر پر ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ وہ جسمانی نظام کوٹھنڈک بہم بھی نہیں پہنچاتے۔
فی الحقیقت سر بندمشروبات ایک خالص مغربی تصور ہیں کیونکہ مغرب میں قدرتی مصنوعات کی قلت ہے اور ان لوگوں کو ضرورتاً سر بندمشروبات اور مخصوص فلیور والے شربت وغیرہ تیار کرنے پڑتے ہیں اور ہمارے لئے یہ بات بالکل بے معنی ہے کہ ان چیزوں کو بغیر کسی خاص فائدے کے اپنے لئے ہی اپنا لیں۔
لیکن ایک چیز جو ان مشروبات کو زبردست پیمانے پر پبلسٹی کے نتیجے میں اور ان کی عمومی اور آسان دستیابی کے نتیجے میں ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اب تمام لوگ اپنے مشروب میں کسی کسی قسم کے مزید فلیور کے متلاشی رہتے ہیں خواہ یہ مشروب گھر میں بنایا ہوا ہو یا بازارسے خریدا ہوا ہو سب کو اس کے ذائقے میں ایک خاص قسم کے فلیور اور مزے کی طلب محسوس ہوتی ہے لوگ نئے نئے ذائقے تلاش کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں شایدصرف آم کی استثنائی حیثیت حاصل ہے آم کا مشروب گھر پر ہی تیار کیا جاتا ہے اور اس کی تیاری کیا جاتا ہے اور اس کی تیاری میں خاتون خانہ کو کچھ زیادہ ہی محنت کرنی پڑ جاتی ہے۔ چنانچہ زیادہ تر خواتین کی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ انہیں بازار میں ایسی چیزیں مل جائیں جن پر وہ ذراسی محنت کرکے اپنی پسند کا مشروب تیار کر سکیں۔
ایسا مشروب جو زیادہ ذائقہ دار بھی ہو اور ٹھنڈک پہنچانے والا بھی ہو۔ یہاں ہم کچھ ایسی ترکیبیں پیش کر رہے ہیں جن کے ذریعے کسی معمولی مشروب کو غیر معمولی بنایا جا سکتا ہے۔ آئیے ہم پیاس بجھانے والی سب سے پرانی، تاریخی اور آفاقی شئے سے اس کام کا آغاز کرتے ہیں اور یہ شئے ہے پانی۔
دنیا کی کوئی بھی شئے انسان کی پیاس کو اس طرح نہیں بھاتی جس طرح ایک گلاس ٹھنڈا اور صاف پانی اس بات سے تو سبھی لوگ واقف ہیں کہ گرمیوں کے موسم میں خاص طور سے پانی ابال کر استعمال کرنا چاہئے تاکہ اس میں موجودہ وہ سارے جراثیم مر جائیں جو گرمی کے باعث پیدا ہوتے ہیں ابلے ہوئے پانی کو دس سے بارہ گھنٹوں تک کے لئے جالی دار کپڑے سے ڈھک کر الگ رکھ دینا چاہئے تاکہ یہ بالکل ٹھنڈا بھی ہو جائے اور اس کا گمشدہ ذائقہ بھی دوبارہ واپس آ جائے ورنہ اس میں پکائے جانے کی بوبسی رہے گی۔
پانی کے ایک گلاس کو کئی مختلف طریقوں سے زیادہ مزیدار بنایا جا سکتا ہے۔ ہر روز پانی میں ایک نیا ذائقہ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے پانی میں مختلف چیزیں شامل کی جا سکتی ہیں جو پانی میں مختلف ذائقے پیا کرنے کا سبب بنیں گی۔
آپ پانی میں الائچی ڈال سکتے ہیں چھلکوں سمیت لونگ ڈال سکتے ہیں دار چینی ڈال سکتے ہیں زیرہ ڈال سکتے ہیں سونف ڈال سکتے ہیں ادرک ڈال سکتے ہیں پودینے یا لیموں کے پتے ڈال سکتے ہیں کستوری کے بیج ڈال سکتے ہیں اور ان کے علاوہ اور بھی بہت ساری چیزیں بعض اقسام کی خوردنی گھاس کو بھی پانی میں ڈالا جاتا ہے اور اس سے پانی میں ایک خاص قسم کافلیور پیدا ہوتا ہے۔
پھلوں کا رس: زیادہ ذائقہ دار ہونے کے لئے پھلوں کے رس کا میٹھا ہونا ضروری ہوتا ہے اور میٹھے مشروبات بہت زیادہ نہیں پئے جا سکتے۔ زیادہ سے زیادہ پورے دن میں ایک یا دو گلاس پئے جا سکتے ہیں اور کوئی بھی شخص خاص طور سے گرم دوپہروں میں مٹھاس سے عاری، پھیکے رس کو پینا پسند نہیں کرے گااور گرمیوں کے موسم میں بالکل تازہ پھل حاصل کرنا آسان بھی نہیں ہے اور پھر ان کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے البتہ آم گرمی کے موسم میں با افراط ہوتے ہیں اور ان کی قیمت بھی مناسب ہوتی ہے۔
لیکن آم کے رس کے ساتھ دشواری یہ ہے کہ اس کو زیادہ مقدار میں نہیں پیا جا سکتا اور آم ایک ایسا پھل ہے جس کو رس نکال کر پینے کے بجائے کھانے والا پھل کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ لیکن ان تمام پھلوں میں جو سب سے زیادہ خصوصی حیثیت حاصل ہے وہ لیموں کو حاصل ہے۔
لیموں کو رس والے پھلوں کا بادشاہ قرار دیا جا سکتا ہے اور یہ ہر عمر کے لوگوں کے درمیان ہر موسم میں مقبول رہتا ہے لیموں کا شربت پاکستان کے تقریباً تمام شہروں میں زبردست مقبولیت کا حامل ہے۔ لیموں کاشربت بنانے کے لئے ٹنڈے پانی کا ایک گلاس لیجئے۔
اس میں ڈیڑھ چمچہ شکر ملائیے۔ چٹکی پھر پسی ہوئی الائچی ڈالئے۔ آدھا کٹا ہوا لیموں نچوڑیے، چند پتیاں زعفران کی ڈالئے اور اس طرح تیار ہونے والا لیموں کا شربت بہترین ہوگا۔ خاص طور سے گرمیوں کے دنوں میں بہت زیادہ فرحت آمیز اور تسکین بخش ہوتا ہے۔
اگر الائچی اور زعفران دستیاب نہ بھی ہوں تو بھی کوئی ہرج نہیں ان کے بغیر بھی بہت اچھا اور مزیدار شربت تیار ہو جائیگا۔ آج کل لیموں کی بہت ساری اقسام موجود ہیں جن کے فلیور ایک دوسرے سے الگ الگ ہوتے ہیں اور ان کی کھٹاس بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے بعض کے ذائقے میں کھٹاس زیادہ ہوتی ہے۔ بعض کے ذائے میں تلخی ہوتی ہے اور اس طرح کے مختلف ذائقے ہوتے ہیں لیموں کی کسی بھی ورائٹی کو استعمال کیاجا سکتا ہے بشرطیکہ اس میں کھٹاس موجود ہو۔

More From Features - مزید خصوصیات