Hazoor Sale Allah Alaihi Wasallam Ki Pasandeeda Ghazain

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ غذائیں

Hazoor Sale Allah Alaihi Wasallam Ki Pasandeeda Ghazain Recipe In Urdu

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت سے خاص رغبت تھی ،زیادہ ترجیح دستی ،گردن اور پیٹھ کے گوشت کو دیتے ،نیز پہلو کی ہڈی پسندتھی ۔ثرید(گوشت کے شور بہ میں روٹی کے ٹکڑے بھگو کر یہ مخصوص عربی کھانا تیار کیا جاتا تھا )تناول فرمانا مر غوب تھا ،پسندیدہ چیزوں میں شہد ،سرکہ ،خربوزہ ،ککڑی ،لو کی ،کھچڑی ،مکھن وغیرہ اشیاء شامل تھیں ۔


دودھ کے ساتھ کھجور (بہترین مکمل غذا بنتی ہے )کا استعمال بھی اچھا لگتا اور مکھن لگا کے کھجور کھانا بھی ذوق میں شامل تھا ،کھر چن (تہ دیگی )سے بھی انس تھا ،ککڑی نمک لگا کر اور خربوزہ شکر لگا کر بھی کھاتے ،مریضوں کی پر ہیزی غذا کے طور پر حریرا کو اچھا سمجھتے اور تجویز بھی فرماتے ،میٹھا پکوان بھی مرغوب خاص تھا ،اکثر جو کے ستو بھی استعمال فرماتے ۔

ایک مرتبہ بادام کے ستو پیش کئے گئے تو یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ امراء کی غذا ہے ،گھر میں شوربہ پکتا تو کہتے کہ ہمسایہ کے لئے ذرا زیادہ بنایا جائے ،پینے کی چیزوں میں نمبر ایک میٹھا پانی تھا ،دودھ ،پانی ملا دودھ (جسے کچی لسی کہا جاتا ہے )اور شہد کا شربت بھی رغبت سے نوش فرماتے ،ہمیشہ اکٹھے ہو کر کھانے کی تلقین فرمائی ۔

سونے چاندی کے برتنوں کو بالکل حرام فرما دیا تھا ،کانچ ،مٹی ،تانبہ اور لکڑی کے برتنوں کو استعمال میں لاتے رہے ،دستر خوان پر ہاتھ دھونے کے بعد جوتا اُتار کر بیٹھتے ،سیدھے ہاتھ سے کھانا لیتے اور اپنے سامنے کی طرف سے لیتے ،برتن کے وسط میں ہاتھ نہ ڈالتے ،ٹیک لگا کرکھانا پینا بھی خلاف معمول تھا ،دوز انویا اکڑوں بیٹھتے ،ہر لقمہ لینے پر بسم اللہ پڑھتے ،نا پسندیدہ کھانا بغیر عیب نکالے خاموشی سے چھوڑ دیتے ،زیادہ گرم کھانا نہ کھاتے ،کھانا ہمیشہ تین انگلیوں سے لیتے اور ان کو لتھڑنے نہ دیتے ۔

دعوت ضرور قبول فرماتے اور اگر اتفا قاً کوئی دوسرا آدمی (بات چیت کرتے ہوئے یا کسی اور سبب سے )
ساتھ ہوتا تو اسے لیتے جاتے مگر صاحب خانہ سے اس کے لئے اجازت لیتے ،مہمان کو کھانا کھلاتے تو بار بار اصرار سے کہتے کہ اچھی طرح بے تکلفی سے کھاؤ ،کھانے کی مجلس سے بہ تقاضائے مروت سب سے آخر میں اٹھتے ،دوسرے لوگ اگر پہلے فارغ ہوجاتے تو ان کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُٹھ جاتے ،فارغ ہو کر ہاتھ ضرور دھوتے ،دعا کرتے جس میں خدا کی نعمتوں کیلئے ادائے شکر کے کلمات ہوتے ،اور صاحب خانہ کے لئے اللہ سے رزق اور برکت چاہتے ۔

کھانے کی کوئی چیز آتی تو حاضر دوستوں کو باصرار شریک کرتے اور غیر حاضر دوستوں کا حصہ رکھ دیتے ،پانی غٹ غٹ کی آواز نکالے بغیر پیتے اور با لعموم تین بار پیالہ منہ سے الگ کرکے سانس لیتے اور ہر بار آغاز ”بسم اللہ “اور اختتام ”الحمد اللہ “پر کرتے ،عام طریقہ بیٹھ کر پانی پینے کا تھا ،پینے کی چیز مجلس میں آتی تو با لعموم دہنی جانب سے دور چلاتے اور جہاں ایک دور ختم ہوتا دوسرا وہیں سے شروع کرتے ،بڑی عمر کے لوگوں کو ترجیح دیتے مگر داہنے ہاتھ والوں کے مقررہ استحقاق کی بناء پر ان سے اجازت لیکر ہی ترتیب توڑ تے۔

کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنا یا ان کو سونگھنا ناپسند تھا ،کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھانکنے کا حکم دیتے ،کوئی نیا کھانا سامنے آتا تو کھانے سے پہلے اس کا نام معلوم فرماتے ،زہر خورانی کے واقعہ کے بعد معمول ہوگیا تھا کہ اگر کوئی اجنبی شخص کھانا کھلاتا تو پہلے ایک آدھ لقمہ خود اسے کھلاتے ۔
(سیرت النبی۔ازمولاناشبلی نعمانی۔مرسلہ:جاوید حامد۔لاہور)

More From Features - مزید خصوصیات